خطبات محمود (جلد 2) — Page 75
60 " در فرموده ۲۵ جولانی ۴۱۹۲۳ مقام مسجد نور نادیا گیر بوجہ نزلہ اور کھانسی نہیں بول نہیں سکتا تھا مگر میں نے مناسب سمجھا کہ کیونکہ عید کا دن ہے اس لئے میں اپنی زبان سے ہی چند کلمات کہہ دوں۔کیونکہ خطبہ کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ بہت مباسی جو ملکہ بعض دفعہ نہایت مختصر الفاظ میں خطبہ کر دیا جاتا رہتا ہے۔اور اسی سے فائدہ ہوتا رہا ہے۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق بعض لوگوں نے لکھا ہے گو تا ریخی طور پر مجھے معلوم نہیں مگر صوفیاء کہتے ہیں کہ خلافت کے پہلے دن جب آپ خطبہ پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے تو چند مسنون لفاظ پڑھکر میٹھے گئے یہ صوفیاء کہتے ہیں۔اس وقت ان کا اس طرح خموش بیٹھ جانا ہی شعبہ تھا گویا ان کی وہ تو خموشی تھی وہی خطبہ تھا تو بعض اوقات خموشی بھی خطبہ ہو جاتی ہے اور اس کا اتنا اثر ہوتا ہے جوڑے لیکچر کا نہیں ہوتا۔در اصل خطبات کی بڑائی اور عظمت ان کی مبانی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس اخلاص کی وجہ سے ہوتی ہے جس سے سنانے والا سناتے اور سننے والا سنے۔اگر سنانے والا اخلاص سے سُنائے اور سننے والا قبول کرنے کے لئے سنے تو چھوٹی بات بھی بہت بڑا اثر کرتی ہے۔لیکن اگر ایسا نہ ہو تو بڑے سے بڑالی کچھر بھی کچھ فائدہ نہیں دیتا۔صوفیاء نے لکھا ہے پاک شخص تھا جو کئی قسم کی برائیوں اور بدکاریوں میں مبتلا تھا اسے ا نصیحتیں کی گئیں مگر وہ یہی کہے کہ نادان ہیں وہ لوگ جو دنیاوی چیزوں کو عیش و عشر کے لئے استعمال نہیں کرتے۔ایک دن وہ گلی میں سے گزر رہا تھا کہ ایک آدمی قرآن کریم پڑھ رہا تھا اس وقت اس کے کان میں یہ آیت پڑی۔العیانِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ ينخر اللہ ہی کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مومنوں کے قلوب ڈر جائیں۔اس آیت کا یک سخت اس پہ اثر ہوا اور اس نے اس کی حالت کو بدل ڈالا۔تو لمبے لمبے وعظ ، طول طویل لیکچر، اور عجیب عجیب سکتے، تو اس کے لئے کچھ بھی مفید نہ ہوئے۔مگر ایک شخص جو اپنے طور پر آیت پڑھ رہا تھا اور ادھر سے یونہی گذر رہا تھا اس کا ایسا اثر ہوا کہ اس میں تاپ مقاومت نہ رہی اور اس کی یک سخت اصلاح ہوگئی ہے نماز عید بوجہ بارش عید گاہ کی بجائے مسجد نور میں ادا کی گئی" و الفضل ۲۱ جولائی 11