خطبات محمود (جلد 2) — Page 66
کہ اسے کوئی موقع خدمات کا دیا گیا، ہزار درجہ بہتر اور لاکھ درجہ افضل ہے اس انسان سے جو سارا دن نمازوں اور تسبیح و تحمید میں گزار دیتا ہے۔اور سارے مال کو اللہ کی راہ میں تقسیم کر دیتا ہے بلکہ بھی اس کے اندر وہ مادہ پیدا نہیں ہوا جس کے ذریعہ سے وہ ہر ایک حکم کے لئے اپنے آپ کو بشرح صدر تیار پاتا ہے یا اس کا نفس بعض احکام پر برا مانتا اور ان کی اطاعت میں اپنی حق تلفی سمجھ لیتا ہے۔درحقیقت وہ مسلم نہیں، اس کے نفس نے اس کو دھوکا دے رکھا ہے۔اور اس میں وہ رگ باقی ہے جس کی وجہ سے ابلیس اندہ درگاہ ہوا۔قربانی کے معنے ہیں کہ انسان ایک مُردہ کی طرح ہو جائے جو بدست زندہ ہو وہ اسے جدھر چاہے پھیر دے اور جہاں چاہے کچھ دے۔نہ کوئی اس کی خواہش ہو اور نہ اس کا اپنا کوئی جندبہ ہو۔وہ اپنے ارادے اور نیت کو بالکل کھو چکا ہو۔ایسا مردہ انسان بلکہ بے حس و حرکت پتھر بھی لاکھ درجہ بہتر ہے اس انسان سے جو اپنے ظاہری اعمال سے اپنے اسلام و فرمانبرداری کا دعونی کر سے مگر امتحان کے وقت جھوٹا ثابت ہو اور ابارہ استکبار کر ہے۔کہتے ہیں کہ ابلیس بڑا عابد و زاہد تھائی یہ مان لیا کوئی بعید از قیاس بات نہیں بلکہ قرین قیاس ہے کیونکہ ہمیشہ انبیاء وصادقین کی آمد سے پہلے بھی ایک ایسا گروہ موجود ہوتا ہے جو مدعی اسلام و فرمانبرداری ہوتا ہے۔دور کی بات نہیں ہمارے اسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلامہ کہنے سب سے بڑے دشمن مولوی محمد حسین بنے بٹالوی ہی کی نسبت ہم نے تحقیقات کرائی ہے۔وہ شریعیت کے ظاہری احکامہ کا بڑا پابند تھا تجد گزار تھا اور سوائے خاص مجبوری کے تہجد ترک نہ کرتا تھا۔انبیاء و راستبازوں کی آمد سے پہلے ایک گروہ ایسا بھی ہوا کرتا ہے۔اور ایک گروہ ایسا بھی ہوا کرتا ہے جیسے مولوی ثناء اللہ مین آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زماد بعثت سے پہلے بھی ایک شخص زید نامی شهور زاہد تھا اور وہ شرک کے خلاف وعظ بھی کیا کرتا تھا اور ایسی غیرت کا اظہار کیا کرتا تھا کہ ایک فعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھانے کے لئے بلوایا تو اس نے جواب دیا کہ میں تمہارا کھانا نہیں کھا سکتا کیونکہ تم لوگ مشرک ہو مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے یقین دلایا کہ ہم لوگ ہرگز مشترک نہیں ہیں۔مگر آخر ایسا ندھی بھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبعوث ہوئے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت نبوت کا اعلان کیا تو شا کی ہوا اور اس نے اپنی حق تلفی بھی کہ خدمات تو میں نے کی ہیں اور نبوت آنحضرت صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مل گئی۔اباء کیا، استکبار دکھایا، مرود ہوا اور محروم رہ گیا۔عرض اباد استنکہا۔ایک ایسی آگ ہے جو ایک دم میں سالہا سال کی محنت ، ریاضت، تعبیر