خطبات محمود (جلد 2) — Page 56
مگر اتفاق کی بات ہے کسی نے نہ دیکھی۔اس پر اس نے اپنے گھر کو آگ لگا دی جب عورتیں اس کے پاس مدردی کرنے کے لئے آئیں تو انہوں نے پوچھا کہ کچھ بچا بھی یا سب کچھ مل گیا۔اس نے کہا اور تو کچھ نہیں بچا صرف یہ انگوٹھی بیچی ہے۔اس پر جیسا کہ بعض عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ نئے کپڑے یا زیورہ کو دیکھ کر بے اختیار بول اٹھتی ہیں کہ کب نور یا ہے کسی عورت نے اس سے پوچھا کہ بہن تم نے یہ انکو سٹی کب بنوائی ہے۔اس نے کہا۔یہ سوال اگر کوئی مجھ سے پہلے کرتی تو میرا گھر ہی کیوں چلتا تو شہرت لوگوں کو اتنی مطلوب ہوتی ہے کہ ناجائنہ رنگ میں بھی اس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جو جائز شہرت اور عزت خدا نے دی ہو اس کے متعلق تو خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے۔5 اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدت کہ اللہ نے جو تجھ پر انعام کیا ہے اس کو بیان کی اور لوگوں کو بتا۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسا کرنا پڑا۔مگر اس کے ساتھلا فخر لا فخر بھی آپؐ فرماتے رہے یہ تو بڑائی اور عزت شہرت اور رتبہ خدا کی نعمتوں میں سے ایک نعمت خدا کی رحمتوں میں سے ایک رحمت خدا تعالیٰ کے احسانوں میں سے ایک احسان ہے۔اور خدا تعالے جب کسی پر اپنا فضل کرتا ہے تو اس کو عزت بھی ساتھ ہی دے دیتا ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کو ئی شخص ذلیل بھی ہو اور خدا کا پیارا بھی۔کیونکہ خدا کے قرب کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بھی ہے کہ انسان مکرم اور معزز ہو۔چنانچہ خدا تعالئے قرآن کریم میں فرماتا ہے KATA TANمَكُمْ عِنْدَ الله انام ہے کہ تم میں سے اکثر مر وہی ہے جو ا نفی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالے نئے اتقی کو محرم قرار دیا ہے۔وجہ یہ کہ عربات اور نقوی ایسی لازم و ملزوم چیزیں ہیں کہ کبھی جدا ہو ہی نہیں سکتیں۔اور ذلت ہمیشہ خدا کی نافرمانی کی وجہ سے نہی آیا کرتی ہے۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ خدا کے نافرمان لوگ بظاہر دنیا دی توت والے نہیں ہوتے۔بلکہ یہ ہے کہ جو خدا کا مقرب ہو وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا۔یہ تو ہوگا کہ ان لوگوں کو بظا ہر عزت مل جائے جو متقی اور نیکو کار نہیں۔مگر یہ کبھی نہیں ہو گا کہ کوئی متقی ہو اور اسے حقیقی عزت حاصل نہ ہو۔تو عزت و توقیر خدا کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے اور انسان چاہتا ہے کہ اُسے عزت اور شہرت حاصل ہو۔اس عید پر خدا تعالے نے بتایا ہے کہ دیکھو حضرت اسمعیل علیہ السلام کو جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قربان کیا اس وقت پر ہزاروں سال گذر گئے ہیں مگر آج تک ان کا نام فورت تو قیر سے لیا جاتا ہے اور ان کو ایسی عورت اور شہرت حاصل ہو گئی ہے جو کبھی مٹ نہیں سکتی۔میں جب لوگ معمولی معمولی عزتوں کے لئے جانیں ہے دیتے ہیں مثلاً گڑائیوں میں لوگ جانیں دیتے ہیں کہ عزت اور ناموری حاصل ہو مگر کب تک یاد رہتی نہیں بہت ہی قلیل عرصہ تک۔اسی لڑائی میں دیکھ لو۔ابھی سے یہ بحث ہو رہی ہے کہ رہے