خطبات محمود (جلد 2) — Page 57
06 بڑا تمغہ اس لڑائی میں سب سے پہلے کس نے حاصل کیا تھا۔گویا اتنے تھوڑے عرصہ میں یہ بھی یاد نہیں رہا۔تو دنیا کی عزت جس کی یہ حالت ہے اس کے لئے جب جانیں قربان کی جاتی ہیں تو سوچنا چاہیئے کہ خدا کی طرف سے عزت حاصل کرنے کے لئے جو ہمیشہ۔بہنے والی ہے کس قدر قربانی ہونی چاہیئے۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ خدا تعالنے کے لئے جو قربانیاں کی جاتی ہیں ان کا نام تو قربانیاں ہوتا ہے مگر دراصل وہ خدمتیں ہیں جن کے معاوضے ملنے ہوتے ہیں کیونکہ قربانی تو اس کو سکتے ہیں کہ بغیر کسی معاوضہ کے کوئی کام کیا جائے۔گوبندہ خدا تعالے سے سودا کر کے قربانی نہیں کرتا مگر دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ جو انسان خدا کے لئے قربانیاں کرتا ہے اسے اس کے بدلہ میں اس قدر انعام ملتے ہیں کہ جن کی کوئی حد نہیں رہتی۔اس لئے ہم نہیں کہہ سکتے کہ خدا کے لئے جو قربانیاں کی جاتی ہیں وہ قربانیاں ہوتی ہیں بلکہ انہیں معمولی سے معمولی خدمتیں بھی نہیں کہ سکتے کیونکہ ان کے بدلے میں بہت بڑا معاوضہ اور اجر ملنا ہوتا ہے۔تو خدا کے لئے جو قربانی کی جاتی ہے گو اس کا نام قربانی ہی ہے۔لیکن یہ بھی محض خدا کا فضل اور احسان ہے کہ بندہ اپنی عورت اور مرتبہ کے بلند ہونے کے لئے جو کام کرتا ہے اس کا نام قربانی رکھ دیا گیا ہے ورنہ وہ کام معمولی خدمت بھی کہلانے کا مستحق نہیں ہوتا۔تو یا درکھنا چاہیئے کہ خدا تعالے کے لئے جو قربانیاں کی جاتی ہیں خواہ وہ نفس کی ہوں یا مال کی وہ در حقیقت خدمتیں ہیں کہ جن کے بدلے بہت بڑھ چڑ ھ کر ملتے ہیں۔اور اس قدر ملتے ہیں کہ وہ قربانیاں خدمات کہلانے کی بھی مستحق نہیں ہیں۔بہت لوگ اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے دھو کہ میں پڑ جاتے ہیں اور دین کا کوئی کام کر کے کتنے ہیں ہم نے یہ قربانی کی ہے جانا کہ وہ قربانی کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی۔قربانی تو یہ ہے کہ ایک شخص ڈوب رہا ہو ، انسان اپنی جان کو خطرہ میں ڈال کر اسے نکال لائے۔یا ایک پیاسا ہو اُسے اپنا پانی دے دیا جائے گو یا جب کسی کو احتیاج ہو اور اپنے مفاد کو نظر انداز کرکے اس کی مدد کی جائے تو اس کو قربانی کہا جاتا ہے مگر خدا تعالے کو تو کسی قسم کی احتیاج نہیں ہے اور نہ اس کو کسی کی امداد کی ضرورت ہے۔ایک ڈوبنے والا یہ نہیں کہتا کہ مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے لیکن خدا تعالے کو تو کسی کی پروا نہیں ہے بلکہ وہاں تو یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ فلاں نے جو میرے نام سے کام کیا ہے اُسے قبول کیا جائے یارڈ کر دیا جائے۔چنانچہ یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ دو آدمیوں نے قربانی کی جن میں سے ایک کی قبول کرلی گئی۔اور دوسرے کی یہ کر دی گئی تو خدا تعالے کے حضور اور ہی رنگ ہے۔قربانی تو یہ ہوتی ہے کہ ایک شخص دوسرے کی خاطر خود تکلیف اُٹھا کر کوئی کام کرتا ہے اور دوسرا اس کا منون احسان