خطبات محمود (جلد 2) — Page 395
۳۹۵ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ الله يبدوا الخَلق لم يُعيد لعنی اللہ تعالے پیداش عالم کو شروع بھی کرتا ہے اور پھر اس سلسلہ کو دہراتا بھی جاتا ہے۔اسی طرح ابراہیمی مقام بھی چکر کھاتا رہتا ہے۔پہلا ابراہیم جاتا ہے تو ایک اور ابراہیم آجاتا ہے۔دوسرا جاتا ہے تو تیسرا آجاتا ہے اور یہ سب کچھ يُعِید کے ماتحت ہوتا ہے۔۔پس تم خدا تعالے کے اس قانون سے فائدہ اٹھاؤ اور دعائیں کرنے کی عادت پیدا کرد تا تمھیں بھی خدا تعالے کی طرف سے رڈیا و کشون ہونے لگیں مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں نے اپنے ایک خطبہ میں نوجوانوں کو دعا کی طرف توجہ دلائی تو میرے پاس در جنوں ایسے خطوط آئے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ انہیں رڈیا وکشون ہونے لگ گئے ہیں بلکہ بعض کو خدا تعالے کی زیاد بھی ہوئی لی۔اس کے منے یہ ہیں کہ انہوں نے اس کا تجربہ کیا اور پھل کھایا ، تم بھی اسکا تجربہ کہ دہ یہانتک کہ تم میں سے کوئی شخص ایسا نہ ہو جسے دعاؤں اور گریہ و زاری کی وجہ سے رویا و کشون نہ ہونے لگ جائیں۔اسی طرح تم رہے دل مضبوط ہو جائیں گے اگر کوئی آفت آئے اور لوگ تمھیرا جائیں تو تم انہیں کہو کہ گھبرا امت میں نے رات کو ہڈیا میں دیکھا ہے یا مجھے الہام ہوا ہے کہ خدا تعالے یہ آفت دور کر دے گا اور ترقی کے سامان پیدا کر دے گا۔پھر تمہاری اولاد میں رویا کیشوف اور الہام سے مشرف ہوں۔اور وہ لوگوں کو گھبراتے دیکھکر تسلی دیں۔پھر تمہارے پوتوں اور پڑپوتوں کو بھی الہام ہوں اور یہ سلسلہ ہزاروں سال تک چلتا چلا جائے۔مگر یہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم نہ صرف خود دعاؤں کی عادت ڈالو بلکہ اپنی اولاد کو بھی دعاؤں کی عادت ڈالو۔ان کے اندر خدا تعالے کی محبت پیدا کرو۔تم اسمعیل پیدا کرو۔ابراہیم خود آئیں گے اور یہ سلسلہ دنیا میں ہمیشہ جاری رہے گا یہانتک کہ ساری دنیا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل جھیل جائے گی۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : لَو كَانَ مُوسَى وَعِيسَى حَيَّنِ نمَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباع ہے کہ اگر موسی اور عیسی بھی زندہ ہوتے تو انہیں میری اطاعت کے بغیر کوئی چارہ نہ ہوتا حالانکہ موسمی اور عینی حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے بیٹے تھے۔پس اللهمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاه إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ ابراهيم إنك حميد مجید کی دعا سکھا کر اللہ تعالے نے موسی اور نعیسی کو بھی آپ کی غلامی میں دیدیا اور بتادیا کہ اگر وہ زندہ ہوتے تو آپ کی کامل اتباع کرتے اور آپ کی امت بن جاتے گویا بتایا کہ اب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کوئی علیحدہ امت نہیں رہی بلکہ اب تیری امت بن کر یہی ان کی امت بنے گی۔پہلے کوئی تیرا مطیع بنے گا تو پھر ابراہیم علیہ السلام کا مطیع ہوگا ، اسی طرح یه درد د چکر کھاتا چلا جائے گا۔اس نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو یہ ایک معجزانہ کلام سناتا