خطبات محمود (جلد 2) — Page 325
۳۳۵ اسحق علیہ السلام کے ذریعہ نہیں کھیلی جبکہ حضرت آمیل علیہ السلام کے بیٹے حضرت محمد رسول اللہ صلی للہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ سے پھیلی ہے۔ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ ہمارا یہ دھونی غلط ہے ، یہ پیشگوئی بنو اسحق کے حق میں حضرت مسیح کے ذریعہ سے پوری ہوتی ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ درست ہوتا تو نبو اسحق اس واقعہ کی یاد میں کوئی عید مناتے مگر ایسا نہیں ہے۔صرف مسلمان ہی اس گذشتہ واقعہ کی یاد کو تازہ رکھتے ہیں۔اور اسی طرح اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے ذریعہ ابرا سیمی نسل میپیلی ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہ کہ مسیح علیہ السلام نے اس عید کو قائم کیا ہے اور اب ساری دنیا کے مسلمان یہ عید مناتے ہیں نہ کہ سیمی یا یہودی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے بھی عید الا ضنجیبہ عربوں میں منائی جاتی بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مبعوث ہونے پر اس پیشگوئی کی طرف اشارہ کرنے کے لئے اسے عالمگیر بنا دیا۔اس لئے کہ پہلے طرف عرب حضرت اسمعیل علیہ السلام کی اولاد تھے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دعونی کے بعد آپ پر ایمان لانے والے سب لوگ حضرت آنفیل علیہ السلام کی اولا میں شامل ہو گئے اور پیش گوئی پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔پھر جہاں ہم یہ عید منا کر رسوئی قدیم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صداقت کا ایک ثبوت بہم پہنچاتے ہیں۔وہاں یہ عید اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ تم تبلیغ کے ذریعہ ابراہیمی نسل کو اور بھی بڑھا ئیں چقنی جتنی ہمت تبلیغ ک نی ہمت تبلیغ کریں گے اور جتنے جتنے مقامات پر اسلام پھیلے گا اتنے ہی شاندار طور پر پیش گوئی پوری ہوگی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو بھی ابراہیم کیا گیا ہے تیے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں جہاں اس طرف اشارہ ہے کہ آپ کی نسل میں بھی اسمعیلی ہجرت کا نمونہ ملے گا ، وہاں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ پیش گوئی آپ کے ذریعہ اور بھی شاندار طور پر پوری ہو گی۔خدا تعالئے آپ سے اور آپ کی قوم سے تبلیغ کا کام لے گا اور تبلیغ کے ذریعہ ابراہیمی نسل کو دنیا میں پھیلائے گا۔پس جب ہم اس عید کے لئے جمع ہوتے ہیں تو اس لئے جمع ہوتے ہیں تا اس نشان کا اظہار ہو اور ہم نئی روح کے ساتھ اٹھیں اور کوشش کریں کہ ابراہیمی نسل اور بھی پھیلے تا وہ نشان پہلے سے دگنا لگنا بلکہ ہزار گنا زیادہ شان سے ظاہر ہو اور ہم یہ کوشش کریں کہ اس جہان میں سوائے ابراہیمی فضل کے اور کوئی باقی نہ رہے " ان - سنن ابن ماجہ کتاب الاضاحی باب ثواب الاضحیة الفضل ۲۳ مئی ۱۹ع) نے صلح حدیبیہ رشتہ میں ہوئی۔حدیبیہ ایک جگہ کا نام ہے جو کہ ہے ایل کے فاصلے پر ہے تاریخ انہیں علی و منا