خطبات محمود (جلد 2) — Page 324
۳۲۳ دنیا کے کناروں تک پھیل گئی۔دوسرے لوگوں نے اپنی اولاد میں حضرت آجیل علیہ السّلام کے گھر میں پھینک دیں اور وہ ان کی اولادیں نہ رہیں بلکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی روحانی اولادیں بن گئیں لیکن یہ ہو اکس کے ذریعہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ ہوا۔پس جب ہم عید مناتے ہیں تو اس پرانے واقعہ کی وجہ سے نہیں مناتے بلکہ اس بات کے اظہار کے لئے مناتے ہیں کہ ہمارا خدا زندہ ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زندہ ہیں۔اور ہم جو آپ کی دھانی اولاد ہیں زندہ ہیں۔ہم اس موقعہ پر جمع ہو کر اور اپنے آپ کو برا نہیں اولاد کے طور پر پیشی کر کے دنیا سے کہتے ہیں کہ دیکھو ستارے گئے جاسکتے ہیں مگر ابراہیمی نسل نہیں گئی جاسکتی۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے فلسطین کے جنوب میں واقع ایک ریگستان میں ایک ایسے شخص پر جس کی کل جائداد چند بکریاں اور چند گائیں تھیں، اس کا خاندان پندرہ بیس افراد پرمشتمل تھا ، خدا تعالے کا کلام نازل ہوا کہ جو چار ہزار سال کے بعد محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ شاندار رنگ میں پورا ہوا ، ہم آج ربوہ میں جو سینکڑوں سال (جہاں تک اس جگہ کی تاریخ بتاتی ہے آباد نہیں ہوا۔جہاں پانی بھی مشکل سے ملتا تھا، جمع ہوئے ہیں اور اس تبا کا اظہار کر رہے ہیں کہ جو بات آج سے چار ہزار سال قبل خدا تعالے نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کی تھی ، وہ ہمارے ذریعہ سے پوری ہو رہی ہے ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ سے اسمعیل اور ابراہیم کی اولاد ہیں اور عرب سے ہزاروں میل دور غیر زبانیں بولتے ہوئے ایک وادی غیر ذی زریخ میں اس امر کی شہادت دے رہے ہیں کہ میں تیری اولاد کو بہت بڑھاؤں گا اور ستاروں کا گننا ممکن ہو گا مگر تیری اولاد کا گفتا ممکن نہ ہو گا۔ہماری طرح اور لاکھوں جگہ پر سلمان جمع ہو کر اس بات کا ثبوت بہم پہنچا رہے ہیں کہ خدا تعالے کا یہ کلام کہ میں تیری نسل کو بڑھاؤں گا اور اتنا بڑھاؤنگا کہ تارے گنے جاسکیں گے مگر تیری نسل گئی نہیں جاسکے گی۔محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذریعہ شاندار طور پر پورا ہوا ہے۔سو ہم یہاں اس لئے جمع نہیں ہوتے کہ حضرت ابراسیم علیہ السلام نے الہی حکم کے مطابق اپنے اکلوتے بیٹے کی قربانی پیش کی۔ہم اس لئے یہاں جمع نہیں ہوئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کمزوری ایمان کا نمونہ نہیں دکھایا۔ہم اس لئے یہاں جمع نہیں ہوئے کہ خدا تعالے نے حضرت اسمعیل علیہ اسلام کو بچا لیا۔بلکہ اس لئے جمع ہوئے ہیں تا اس بات کا اظہار کریں کہ یہ عجزانہ کلام جو خاص شان رکھتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق تھا اور انہیں کے ذریعہ سے پورا ہوا اور ہم اس کے زندہ گواہ ہیں۔پس جہاں بھی یہ عید منائی جاتی ہے ، گویا وہاں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ابراہیمی نسل حضرت