خطبات محمود (جلد 2) — Page 201
اس کو دیکھیں اور تمثیل کی زبان سے اس واقعہ کو بیان کریں۔تو ہمیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالے ایک محبت کرنے والی ماں ہے اور ابراہیم ایک کمزور دل بچہ ہے جس نے ایک دردناک واقعہ دیکھا اور بلک بلک کر اپنی ماں کو چمٹ گیا۔ماں اس کو ممنون کرنا چاہتی تھی مگر حالات سے مجبور تھی وہ واقعات کو تبدیل نہیں کر سکتی تھی مگر وہ اس کے دکھ کو بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی اس موقعہ پر اس نے وہی کیا جو وہ کر سکتی تھی یعنی اس نے اس کو اپنے گلے سے لگا لیا اور پیار کرتے ہوئے بولی کہ ہائے میرا بچہ بابائے میرا بچہ! یہ کتنا نازک دل والا اور کتنا رحم والا ہے۔لفظ مختصر ہیں مگر جذبات کا ایک وسیع سمند در پیچھے لہریں مار رہا ہے۔اللہ تعالئے انسانی جذبات سے بالا ہے۔اور ہم اس کی صفات کی کیفیات کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے۔مگر اس موقعہ پر جب خدا نے ابراہیم کے لئے علیم او الا منیب کے الفاظ استعمال کئے تو اس وقت اس کی صفنت شفقت اور صفت رانت جس جوش میں ظاہر ہو رہی ہوگی وہ ایسی کیف انگیز ہے کہ کم گو الفاظ میں اس کو بیان نہ کر سکیں لیکن ہمارے دل اس کی لذت سے آشنا ہیں۔اور ہمارے قلوب اس سے مزا لے رہے ہیں اور ہم پر ظاہر کرتے ہیں کہ وہ جو خدا کے لئے تکلیف اُٹھاتا ہے خدا تعالئے بھی اس کے لئے ایک ایسی صفت کا اظہار فرماتا ہے۔کہ گو الفاظ میں یہ کہنا ہے ادبی ہوگی مگر وہ کچھ ایسی ہی چیز ہوتی ہے کہ جس طرح ماں کا دل اپنے بچہ کی تکلیف کو دیکھ کر مخون ہو جاتا ہے۔گو یا خدا تعالے کا دل بھی ابراہیم کی تکلیف کو دیکھ کر درد سے بھر گیا۔یہ تمثیلی زبان ہوگی اور حقیقت سے کوسوں دور۔لیکن ہمارے پاس اور کوئی الفاظ بھی تو نہیں کہ جن سے اس حقیقت کا کوئی قریب ترنقشہ کھینچ سکیں۔یہ تمثیل خواہ کوسوں دور جو مگر اس حقیقت کے بیان کرنے کے لئے قریب ترین ہے۔اور شاید انسانی ذہین اللہ تعالے کی ایسی صفات کے سمجھنے کے لئے اس سے زیادہ اور الفاظ کے ذریعہ حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض مذاہب نے خدا کو باپ کی صورت میں پیش کیا ہے۔اور بعض مذاہب نے ماں کی صورت میں سے اسلام نے ایسی تمثیلوں سے اجتناب کیا ہے مگر پھر بھی وہ یہ کہنے سے باز نہیں رہ سکا کہ خدا کا تعلق اس کے بندہ سے اپنے باپ اور اپنی ماں اور اپنے دوسرے رشتہ داروں سے زیادہ قریب کا ہے کیا شاید میں اپنے مل مضمون سے کسی قدر دور ہو گیا ہوں۔مگر جذباتی دنیا کا یہی حال ہوتا ہے۔انسان جذبات کے تابع ہوتا ہے نہ کہ جذبات انسان کے پس شاید جذبات مجھے بھی کہیں سے کہیں لے گئے۔میں یہ مضمون بیان کر رہا تھا کہ ابراہیم جس نے اپنے بیٹے کی قربانی خدا کے لئے پیش کی وہ دیوانہ نہیں تھا۔کیونکہ خدا اس کو خلیق کہتا ہے جس کے معنے دانا کے ہیں۔اور وہ جذبات سے عاری نہیں تھا اور سنگدل نہیں تھا کیونکہ خدا اسے آوائی