خطبات محمود (جلد 2) — Page 145
۱۳۵ والوں نے خدا تعالے کو بھی اس امیر زادہ کی طرح سمجھ رکھا تھے کہ انسان اگر اپنی دھجیاں اُڑاتے تو اُسے مزا آتا ہے۔لیکن اسلام نے آکر بتایا کہ قربانی بندہ کے اپنے نفع کے لئے ہے ، فتقاد راسل بقاء کی کڑیوں میں سے ایک کڑی ہے تم اس لئے فنا نہیں ہوتے کہ خدا کو مزا آئے بلکہ اس لئے که خود تمہارے اندر ایک نئی چیز پیدا ہو۔اور اگر یہ نہیں ہوتی تو تم اپنے آپ کو ضائع کر رہے ہو بلکہ خدا تعالئے کے غضب کو بھڑکاتے ہو۔اسے تمہیں ترقی دینا مقصود ہے نہ کہ دکھ دینا۔الله تعالے کا مقصد یہ ہے کہ انسان ترقی کرتے کرتے اس مقام پر پہنچ جائے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔یہ عید در اصل اس بات کی یاد ہے کہ ہمیں لغو قربانیوں سے پر ہیز کرنے کے ساتھ مقید قربانی سے کبھی بھی پہلو تہی نہ کرنی چاہیئے۔ایک طرف یہ ہمیں سبق دیتی ہے کہ ہر ذرہ جو ضائع ہوتا ہے وہ خدا تعالے کی ناراضگی کا موجب ہوتا ہے اور دوسری طرف یہ بتاتی ہے کہ اگر کسی مقصد کے لئے تمہیں اپنی قیمتی جان بھی دینی پڑے تو بلا تامل دید گویا ایک طرف یہ عید ہمیں اپنے ذرہ ذرہ کو بچانے کا سبقتی دیتی ہے۔اور دوسری طرف بڑی سے بڑی چیز کی قربانی سکھاتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اجتہادی غلطی کے ما تحت اللہ تعالے کی رضا حاصل کرنے کی خاطر حضرت اسمعیل علیہ السلام کو قربان کرنا چاہا لیکن چونکہ یہ ایک ایسی قربانی تھی جو محض بے فائدہ تھی اور کیس سے کوئی مقصد پورا نہیں ہوتا تھا۔اس سے نہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ذات کو کوئی فائدہ تھا اور نہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی ذات کو اور نہ ہی دنیا کو۔اس لئے اللہ تعالے نے اس سے روک دیا۔اور فرمایا کہ یہ قربانی ہماری خوشی کا موجب نہیں مانا تم رویا۔کہ پورا کرنے والے ہو لیکن یہ تخیل ہمار کے حکم کے مطابق نہیں۔گویا بتایا کہ لغو قربانی آج سے مشائی جاتی ہے۔اس کے مقابلہ میں اللہ تعالے نے ایک اور قربانی قائم کی ہے اور وہ اس رویا کی تعبیر تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لخت جگر اور اس کی والدہ کو ایک بے آب و گیاہ صحراء میں چھوڑ آئے اور اس غرض سے چھوڑ آئے کہ خدا تعالے کا گھر آباد ہو اور لوگ اس کا ذکر کریں۔تلوار سے اگر وہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کو ذبح کر دیتے تو یہ اتنی بڑی قربانی نہ تھی اپنے ہاتھ سے اپنے بیٹے کو ذبح کرتے وقت اتنا تو لحاظ کرتے کہ تیز چھری سے کام کرتے۔اور یہ کام ایک منٹ میں ہو جاتا لیکن اسے ایک ایسے جنگل میں چھوڑ آنا جہاں سوسو میل تک کھانا پانی نہ مل سکتا ہو اور جہاں حد نظر تک نہ کوئی قافلہ ہو اور نہ آبادی۔گویا اسے ایسی موت میں مبتلا کرنا تھا جو چھری سے ذبح کر دینے کے مقابلہ میں بہت زیادہ کلیف دہ تھی جس کے ساتھ بھوک اور پیاس بھی وابستہ تھی۔اور اللہ تعالے نے اس قربانی سے حضرت