خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 146

ابراہیم علیہ السلام کو نہیں روہ۔وہی خدا جس نے تیز چھری سے ذبح کرنے کے وقت کہا تھا یہ لغو ہے، فضول ہے ، اس کی ضرورت نہیں۔اس سے زیادہ خطرناک قربانی کرتے ہوئے دیکھ کر نہ صرف یہ کہ منع نہیں کرتا۔ملکہ فرماتا ہے ہمارا منشا یہی ہے۔وہ رحیم و کریم و شفیق کہتی ہے جس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسمعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری پھلانے سے روک دیا اس نے اُسے مکہ میں چھوڑنے سے نہ روکا بلکہ خود اس کا حکم دیا۔اس کی یہی وجہ ہے کہ چھری سے ذبح کر دینے کے کوئی معنے نہ تھے اور اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔لیکن غیر ذی زرع جنگل میں چھوڑ آنے کے معنے تھے ، اس سے خدا تعالے کی عبادت کو تنم کرنا مقصود تھا۔اگر حضرت ابراہیم علیه اش دوم حضرت معیل علیه السلام کو چھری سے ذبح کر دیتے تو اس کا کیا فائدہ تھا۔زیادہ سے زیادہ ایسا ندار لوگ مزے لے لیکن یه حکایت بیان کرتے۔اور جو کز در ایمان والے ہوتے ، وہ زیادہ سے زیادہ اسی نقطہ نگاہ سے اسے دیکھتے جس سے فری تھنکر سوسائٹی کے بانی نے دیکھا۔فرانس کا ایک لڑکا جو بعد میں دہریت کا بانی ہوا۔وہ اپنے باپ اکلوتا بیٹا تھا۔دس بارہ سال کی عمر میں وہ اپنے باپ کے ساتھ پہلی دفعہ گر جائیں گیا۔وہ کہتا ہے خوش قسمتی سے الیکن ہم تو اسے بدقسمتی ہی کہیں گے، پادری فضا نے اس وقت اسحاق کی قربانی پر وعظ کیا۔رعیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت اسحق کی قربانی کی گئی عقی نہ کہ حضرت آمیل کی اور بتایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خدا کی رضا حاصل کرنے کے لئے اپنے اکلوتے بیٹے کو ذبح کر دیا۔جوں جوں پادری صاحب یہ بیان کرتے مجھے خیال ہوتا کہ میں بھی اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہوں۔اگر میرا باپ بھی مجھے ذبح کر کے خدا کو خوش کرنا چاہئے تو کیا ہو۔اس خیال کا مجھ پر اس قدر غلبہ ہوا کہ مجھے یقین ہو گیا کہ میرا باپ مجھے ضرور دیک کو ڈالے گا۔جونی و خط ختم ہوا میں دوسرے دروازہ سے بھاگ گیا اور یمن در کے کنار سے پہنچا۔امریکہ کو ایک جہاز جا رہا تھا اس میں سوار ہو گیا۔ماں باپ کے لئے میرے دل میں کوئی محبت نہ رہی اور میں نے خیال کیا کہ یہ ظالم ہوتے ہیں۔ساتھ ہی مجھے خدا سے بھی نفرت ہوگئی اور میں نے دوسروں کو بھی اپنا ہم خیال بنا نا شروع کر دیا۔آہستہ آہستہ دہریوں کی ایک بڑی جماعت بن گئی۔یہ لوگ لاکھوں کی تعداد میں اخبار اور رسالے شائع کر رہے ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ دنیا خدا کا انکار کر دیتے۔تو ممکن تھا کہ اگر حضرت ابراہیم حضرت ہمیں کو ذبح کر دیتے تو اور بھی کئی لوگ کہ اٹھتے کہ ہم ایسی ظالمانہ تعلیم اور ایسے خدا کو نہیں مانتے۔اور لیکن جس قربانی کا خدا نے حکم دیا وہ کتنی زبر دست ہے، اسی کا نتیجہ ہے کہ آج تک خدا تعالیٰ کی عبادت اس گھر سے وابستہ ہے جس کا قیام حضرت سمعیل علیہ السلام کے ذریعہ ہوا مگر کی آبادی اور اس بات کا علم کہ اللہ تعالے کی توحید کا مرکز اور سرختمیہ مکہ ہے، یہ تمام باتیں حضرت لکھیں