خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 104

۱۰۴ بالمقابل اسے خواب بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں جسے انہوں نے چاہا کہ پورا کریں۔قرآن شریف کے بیان کے مطابق یہ سب کچھ حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام کے خواب کا نظارہ تھا اور قرآن شریف کے بیان سے بڑھ کر صحیح اور سچابیان اور کس کا ہو سکتا ہے پس جبکہ یہ ایک خواب تھا تو یہ ضروری ہے کہ اس کی کوئی تعبیر ہو اور جب ہم واقعات پر نظر ڈالتے ہیں تو اس خواب کی تعبیر یہ ہوتی ہے کہ جب دیکھا کہ بیٹا قربان کر رہے ہیں تو یہ پیش گوئی تھی کہ وہ ایک دن اسے جنگل میں اپنے ہاتھ سے چھوڑ آئیں گے۔قرآن شریف میں یہ الفاظ ہیں۔نبى إني أرى فِي الْمَنَامِ الَي اذْبَحُكَ اے بیٹے ! ہمیں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔اب حضرت ابراہیم خود اپنے ہاتھ سے اسے جنگل میں چھوڑ آئے۔اور جنگل بیابان میں چھوڑ آنے سے خواب پوری ہو گئی۔مگر بائیبل جس رنگ میں یہ پیشگوئی بیان کرتی ہے وہ پوری نہیں ہوتی۔تو جنگل میں چھوڑ آنا چھری پھیر دینے کے برابر ہو گیا محبتوں پر چھری اسی طرح پھرا کرتی ہے کہ محبت کو قطع کر دیا جائے۔دوستوں کی محبت اور رنگ میں انہوں نے قطع کی۔ماں باپ کی اور رنگ میں اور اولاد کی اور رنگ میں۔تو قرآن کے بیان میں حکمت ہے اور بائیبل میں ظالمانہ قربانی بتائی جاتی ہے۔رہی یہ بات کہ کس کو قربانی کرنے کا حکم ہوا تھا۔عیسائی کہتے ہیں اسحق کو لیکن ہم کہتے ہیں اسمعیل کو۔کیونکہ جب یہ خواب دیکھی گئی تب ایک ہی ان کا بیٹا تھا اور وہ آنیل تھا پس اسحق کو قربان کرتے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے نہیں دیکھا تھا۔بلکہ اسمعیل کو دیکھا تھا۔کہ آپ اسے قربان کر رہے ہیں۔پھر یہ قربانی صرف حضرت ابراہیم علیہ الصلواۃ والسلام بھی کی نہیں متی بلکہ حضرت ہمیں کی بھی تھی۔کیونکہ در حقیقت وہی تھے جو قربان ہو رہے تھے اور بائیل میں تو جس کی قربانی ہے اس سے پوچھا بھی نہیں گیا کہ کیا تو بھی قربان کئے جانے پر راضی ہے یا نہیں اور صرف اتنا بیان کیا گیا ہے کہ انھی نے جب سوختنی قربانی کے سامان دیکھے تو باپ سے سوال کیا آگ اور لکڑیاں تو ہیں پر سوختنی قربانی کے لئے برہ کہاں ؟" جس کا جواب باپ کی طرف سے صرف یہ دیا گیا۔خدا آپ ہی اپنے واسطے سوختنی قربانی کے لئے بڑہ کی تدبیر کرے گا یا ہے پس یہاں سے اگر کچھ نتیجہ نکلتا ہے تو یہی کہ صرف حضرت ابراہیم علیہ الصلوة والسلام کی قربانی کا ذکر ہے۔اور بس کی قربانی کی جاتی ہے اس کی آمادگی کا کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی اس سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا ہے۔حالانکہ مرنے والے کی قربانی بڑی ہوتی ہے تو بائیبل میں تو صرف حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قربانی کا ذکر آتا ہے۔لیکن قرآن شریف بتاتا ہے