خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 105

۱۰۵ F جب حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ و السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے سمجھیل کو ذبح رہے ہیں تو انہوں نے بعد میں اسمعیل سے اس کے متعلق یہ چھا۔چنانچہ قرآن شریف میں یہ لفاظ موجود ہیں۔فانظر ماذا تری یعنی اے بیٹے ! میں خواب میں دیکھے تو رہا ہوں کہ تمھیں ذبیح کر رہا ہوں۔اب تمہاری کیا منشاء ہے ، کیا تم چاہتے ہو کہ فی الواقع تم ذبح کر دیئے جاؤ کہا اگر تیری مرضی ہو توئیں اس کام کو کروں۔گو یہ کام میرے ہاتھوں ہونا ہے مگر ہے درحقیقت قربانی تیری۔کیونکہ تم نے قربان ہونا ہے۔بائیبل تو اپنے بیان سے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کو نعوذ باللہ دھوکہ باز قرار دیتی ہے۔مگر قرآن میں ایسا نہیں ہے بلکہ فَانظُرْ مَاذَا تَری کے الفاظ اس میں موجود ہیں جن میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام حضرت اسمعیل سے پوچھتے ہیں آیا تو تیار ہے۔اگر تو تیار ہے تو پھر یہ کام کیا جائے۔ان دونوں بیانات میں کتنا عظیم الشان فرق ہے اور واقعہ کی نوعیت بناتی ہے کہ قرآن کریم کا بیان سچا ہے۔بائیبل تو کہتی ہے۔حضرت ابراہیم عليه الصلوۃ والسلام حضرت الحق کو بتاتے ہی نہیں کہ میں تمھیں قربان کرنے کے لئے جاتا ہوں مگر قرآن صاف بتاتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے صاف صاف حضرت اسمعیل کو بتادیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں۔پھر بائیبل اپنے بیان کو یہیں تک چھوڑ دیتی ہے۔لیکن قرآن آگے اس بات کو بھی بیان کرتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسمعیل علیہ اسلام سے ان کی مرضی بھی دریافت کی۔پھر ہی نہیں کہ صرف یہ سوال کر دیا ہو کہ تیری اس کے متعلق کیا مرضی ہے جبکہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کے جواب کو بھی بیان کر دیا۔کہ اسے باپ با تو کچھ جھے حکم دیا گیا ہے بلا تامل اسے پورا کر۔انشاء اللہ تعالے تو مجھے صابرین میں سے پائے گا۔اس واقعہ کے سارے واقعہ کو قرآن شریف میں اس طرح بیان کیا گیا ہے۔فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ الشَّعْرَ قَالَ يبى الى ارى في المنام اني اذبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرَى - قَالَ يَا بَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّبِرنین۔یعنی جب اسمعیل سیانے ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنا خواب ان کے سامنے بیان کیا اور ان کی مرضی دریافت کی جس کا جواب حضرت اسمعیل علیہ السلام يابَتِ افْعَلَ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُ فِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصبرین دیتے ہیں۔یعنی اسے باپ ! آپ اس کے متعلق اپنا حصہ ادا کریں۔میں اپنا حصہ ادا کرونگا یہ سچی قربانی تھی جس میں قربان ہونے والے کی رضامندی بھی شامل تھی۔رہی یہ بات کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام نے کیوں آمادگی ظاہر کی سو اس کی وجہ یہ ہے کہ انبیاء پہلے دستوروں کو قائم رکھتے ہیں اور اس وقت تک ان کو قائم رکھتے ہیں جب تک وہ دائمی صدا توں کے خلاف نہ ہو جائیں۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں انسانی قربانی ہوتی تھی۔