خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 95

۹۵ یہ سلب نعمت کا سبب ہو جاتا ہے۔اگر کوئی شخص انعام کو رد کرتا ہے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے ہاتھ سے نعمتوں کے دروازہ کو بند کرتا ہے۔آج کا دن بھی ایک ایسا دن ہے جس میں عمدہ کھانے کھانا اور اچھے کپڑے پہننا خدا تعالے کا انعام ہے۔اور اس انعام کو تو کہ نا خدا کی خوشی کا باعث نہیں ہو سکتا بلکہ الٹا اس کی ناراضگی کا موجب ہو جاتا ہے۔حدیث میں ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں ایک شخص دودھ لایا۔آپ نے دودھ پیا اور پینے کے بعد دائیں بائیں دیکھا۔دائیں طرف ایک لڑکا بیٹا تھا اور بائیں طرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے۔آپ نے لڑکے سے مخاطب ہو کر فرمایا شریعت نے دائیں طرف والے کا حق بے شک مقدم رکھا ہے مگر کیا میں یہ دودھ عمر کو دے دوں ؟ لڑکا فورا بول اُٹھا یا رسول اللہ ! میں تبرک پہ ایشار نہیں کر سکتا۔دودھ مجھے دیدیں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حق کو منظور کر لیا اور اسے دید یا شے شیخ عبد القادر صاحب جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مجھے پر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ میں نہیں کھاتا۔جب تک خدا مجھے نہیں کہتا۔اسے جیلانی ایتھے میری قسم کھا۔اور میں کپڑا نہیں پہنتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا۔اے جیلانی انجھے میری قسم کپڑا پین یا پھر رکھا ہے جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی خوراک نہایت اعلیٰ ہوتی تھی۔اور اسی طرح ان کا لباس بھی اس وقت کے لحاظ سے بہت قیمتی اور بہترین ہوتا تھا۔بلکہ کئی دفعہ وہ بادشاہ کے لباس سے بھی بڑھ کر ہوتا۔بعض دفعہ ان کا کپڑا ایسا اعلیٰ ہوتا کہ ایک ہزار اشرفی ایک گز قعیت کا ہوتا ہے روایات میں اکثر اختلاف ہو جاتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس روایت میں بھی اختلاف ہو۔لیکن یہ بات درست تھی کہ وہ اللہ تعالے کے حکم کے ماتحت کھاتے اور اسی کے حکم کے ماتحت پہنتے تھے اور اسی میں اللہ کی رضا ہوتی ہے کہ انسان اللہ تعالے کے حکم کے نانخست کھا ہے پیئے اور دوسرے کام کرے۔حضرت مسیح ناصری کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک جگہ جہار ہے تھے۔کچھ حواری بھی ساتھ تھے۔روزوں کے دن تھے۔ان کے روز نے مسلمانوں جیسے روزے نہیں ہوتے تھے۔بلکہ معمولی کھانے پینے سے پرہیز ہوتا تھا۔وہ جب جارہے تھے تو ان کے شاگردوں نے راستے سے سٹے توڑ کر کھائے لیے اس میں کچھ شک نہیں کہ عیسائیوں کیلئے بھی روزوں کے دن آتے ہیں۔مگر وہ روزے ایسے نہیں ہوتے جیسے مسلمانوں کے۔سو روزے بھی اگر ایک عیسائی رکھے تو بھی مسلمانوں کے ایک روزہ کے برابر نہیں ہوتے۔تو با وجود اس کے کہ ان لوگوں کے لئے روزے بہت ہلکے تھے تاہم حضرت کسی کے شاگرد روزہ نہ رکھتے تھے۔انجیل میں