خطبات محمود (جلد 2) — Page 94
۹۴ معلوم ہوتا ہے کہ خدا کی خوشی نہ کھانے میں ہے نہ فائقے ہیں۔بلکہ اس حکمت کے ماتحت ہے کہ انسان دونوں عیدوں پر ایک قسم کی قربانی کرتا ہے اور خدا تعالے کا حکم بجا لاتا ہے۔تو عیدین تمہیں یہ بتاتی ہیں کہ جس طرح خدا کی خاطر فاقہ کرنا پڑا تو فاقہ کیا اور اچھے اچھے کھانے چھوڑ دیئے۔اسی طرح اگر خدا کی خاطر اچھے اچھے کھانے کھانے پڑیں تو کھاؤ کیونکہ اس میں تمہاری اپنی غشاء اور خواہش کو تو ودخل نہیں صرف خدا کی منشاء کی متابعت ہے۔ایسے لوگوں میں سے جو اچھا کھانے اور اچھا پہننے پر اس لئے اعتراض کیا کرتے ہیں کہ خدا ان باتوں سے خوش نہیں ہوتا۔بعض لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر بھی اعتراض کیا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ تعا لٰے عنہ فرماتے تھے ایک دفعہ میں بازار سے گزر رہا تھا کہ ایک ڈپٹی صاحب میرا راستہ روک کر تعجب سے کہنے لگے میں نے سُنا ہے مرزا صاحب بادام روغن اور پلاؤ کھا لیتے ہیں۔اور ساتھ ہی کہا۔فقر میں تو یہ باتیں جائز نہیں۔میں نے کہا۔اسلام میں یہ چیزیں جائزہ ہیں۔اس لئے آپ استعمال کرتے ہیں۔تو بعض کا خیال ہے کہ اچھی غذا اور اچھے لباس سے خدا خوش نہیں ہوتا۔حالانکہ بعض موقعے ایسے۔ہوتے ہیں کہ ان پر اچھا کھانے اور اچھا لباس پہنے سے ہی خدا خوش ہوتا ہے۔آج کا دن جو عید اضحی کا دن ہے یہ بھی ان موقعوں میں سے ایک موقعہ ہے۔جن پر خدا تعالیٰ اچھا کھانے اور اچھا پہننے سے خوش ہوتا ہے۔آج نہ صرف یہ حکم ہے کہ آپ کھاؤ۔بلکہ یہ حکم بھی ہے کہ دوسرے مسلمانوں کو بھی کھلاؤ۔چنانچہ اس حکم کی متابعت میں کوئی مسلمان گھر نہیں رہ جاتا جس میں گوشت نہ پہنچ جاتا ہو۔غلطی سے رہ جائے تو رہ جائے تقسیم کرنے والوں کی بھول سے کسی کے گھر گوشت نہ پہنچ سکے تو نہ پہنچ سکے اور نہ جس رنگ میں اس دن کے احکام ہیں ان کی رُو سے ہر مسلمان گھر میں پہنچتا ہے۔اور ہر مسلمان اس دن کھانے کا خاص اہتمام کرتا ہے۔پس یہ دن بتاتا ہے کہ اس دن خدا تعالے کی خوشی فاقہ میں نہیں بلکہ کھانے پینے میں ہے۔خدا تعالے کی نعمتوں سے مستفیض ہونا بھی شکر گزاری میں داخل ہے اور نعمتوں کی بے قدری انسان کو خدا تعالے کی نگاہ میں مقہور بنا دیتی ہے۔ایک دفعہ جب بہت سا مال آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار سے کہا تم نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں۔آؤ یں تمھیں مال دوں کیونکہ تم نے مہاجرین کو اپنا مال دیا تھا۔انصار نے سمجھا کہیں ہماری قربانیوں میں شبہ نہ پڑ جائے۔اس لئے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا۔یہ مہاجرین کو ہی دے دیا جائے۔اس پہ آپ نے فرمایا۔تم نے نعمت کو رد کیا اب ان کو تو اس دنیا میں بھی ملے گا مگر تم کو قیامت کو بھی ملے گا۔تو انعام کا رد کرنا معمولی بات نہیں