خطبات محمود (جلد 2) — Page 46
م اد کہ جبرا۔وں بھیڑیا ہیں جو زمین پر لٹاتی ہوتی ہیں اور قصائی چھریاں ہے کہ ان کو ذبح کرنے کو تیار ہیں آپ فرماتے ہیں کہ اس حالت میں میں نے دیکھا کہ انہوں نے منہ آسمان کی طرف اٹھائے ہوئے تھے۔گویا کسی آوازہ کی منتظر تھیں۔اس وقت میری زبان پر یہ آیت تھی قُل مَا يَعْبُوا بِكُر رَبِّي لَولا دُعا ولد میرا یہ پڑھنا تھا کہ ان قصائیوں نے ان کے گلوں پر چھری پھیر دی اور وہ بے دردی سے ذبح ہو گئیں ہیں اس کا یہ مطلب تھا کہ اس رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ بجھایا گیا کہ تو نے جو خدا کے لئے اپنے نفس کو قربان کیا ہے۔اس سے ہمارے حضور میں تو اس قدر معززہ ہو گیا ہے کہ تیری خاطر ہزاروں اور لاکھوں کو ہم قربان کر دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ کے مخالف بھیڑوں کی شکل میں دکھائے گئے۔بھیڑوں کا تاندہ ہوتا ہے کہ وہ گند کی طرف جاتی ہیں۔اسے بتا یا کہ تیرے مخالف بھی بدی کی طرف جائیں گے اور چاہیں گے کہ تجھ کو بلاک اور فنا کر دیں۔مگر تو ان کی مخالفت کی ذرا نہ واہ نہ کرنا۔ہم تیری خاطر ان لاکھوں کو فنا کر دیں گے۔اور جو تجھ کو مٹانا چاہیں گے ہم ان کے نام و نشان مٹادیں گے۔خدا تعالے کو اپنے پیاروں کے مقابلے میں کسی کی پرواہ نہیں ہوتی۔دیکھو حضرت نوح علیہ السلام کا مقابلہ کرنے والوں نے نوح کو ادنی درجہ کا خیال کیا اور آپ کو مٹانا چاہا۔مگر خدا نے ایک۔نوحے کی خاطر کتنوں کو پانی میں فرق کر دیا اور ذرا پرواہ نہ کی لیے اسی طرح حضرت موسی کا مقابلہ فرعون نے کیا اور آپ پر ہنسی اڑانے کے لئے بابان سے کہا کہ ایک محل تو بنا تا اس پہ چڑھ کر موسنے کے خدا کو دیکھوں سے چونکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہتے تھے کہ میرا رب بلند اور پوشش پر ہے۔اس لئے اس نے اس طرح ان کے ساتھ نفسی اور مسخر کیا۔اگر وہ محل بنوا کہ اس کے اور پر چڑھتا تو وہاں بھی خدا اپنی قدرت اسے دکھا سکتا تھا مگر اس نے نہ چاہا کہ اسے اوپر چڑھنے پر تباہ کیا جائے اور اس طرح اسے بین سے بلند ہونے کا موقعہ دیا جائے۔اس لئے خدا نے اپنا وجود جو اسے دکھایا تو اس طرح پر کہ سمندر کی تہد میں اس کو بٹھا دیا ہے اور وہاں اپنی قدرت کا جلوہ دکھایا۔اس نے تو بجو شخر خدا کو دیکھنے کے لئے اوپر چڑھنا چاہا تھا۔مگر خدا نے بوجہ اس کی سرکشی اور استہزاء کے اتنا بھی اسے موقع نہ دیا بلکہ اسے تحت الثریٰ میں گرا دیا۔اب دیکھو کہ وہ فرعون جو حضرت موسے پر ہنسی کرنے کے لئے محل بنوانا چاہتا تھا خدا نے اس سے کیا سلوک کیا۔یہ کہ اپنی قدرت نہائی کے لئے اسے سمندر کے نچلے حصہ میں فرق کر دیا یہ اسی طرح حضنہایت خیلی کہ لوگوں نے ذلیل کرنا چاہا اور آپ کے مثانے کی کوشش کی مگر حضرت عیسی معزز ہوئے اور آپ کو ذلیل کرنے والے خود رسوا اور ذلیل ہو گئے نے