خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 347

جس کے کرنے کی تو نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو توفیق دی ہم آگے بڑھ کو خنجر پر اپنی گردنیں رکھ دیں۔تم نماز میں یہ کتنے ہو لیکن جب چندہ کے لئے کیا جاتا ہے تو اپنی جیبیں پکڑ لیتے ہو۔ہر نماز میں تم درود پڑھتے ہوئے یہ کہتے ہو کہ اے اللہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت ابر آید علیہ السلامہ کی طرح اپنی اولاد قربان کرنے کی توفیق عطا فریا اور اولاد کو قربان ہونے کی توفیق دے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو چکے ہیں ، اس لئے اس دنیا کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ چیز ہمیشہ جاری رہے۔یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو ایک بیٹے کے قربان کرنے کی توفیق ملی تھی لیکن یہاں یہ چیز ہمیشہ رہے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ اپنے بیٹے قربان کرنے کی توثیق ملے۔اب بتاؤ بڑا کون ہوا ؟ وہ جس نے ایک بیٹیا ذبح کیا یا جو بہ زمانہ میں بیٹے قربان کرتا ہے۔مسٹر سوچو کہ جب تم یہ کہتے ہو کہ اے اللہ ! تو مجھے ویسے ہی قربان ہونے کی توفیق عطا فریا جیسے قربان ہونے کی توفیق تو نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو دی تھی۔تو پھر تم دیانتدار ہوتے ہوئے قربانی سے بھاگ کسی طرح سکتے ہو۔کیا تم اپنے نفس کو اس نے مستغنی کر لیتے ہو۔بلکہ حقیقتا دعا کرنے والا تو سب سے پہلا مخاطب ہوتا ہے پس سب سے پہلے اپنے نفس کو اس میں شریک کرنا چاہیئے ورنہ یہ ایک متسخر بن جائے گا اور کیا یہ چیز کوئی مسلمان برداشت کر سکتا ہے اور کیا کوئی مسلمان اس بات کا اقرار کرے گا۔کہ میں دعا کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اسے اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمیشہ اپنے بیٹے قربان کرنے کی توفیق عطا فرما اور آپ کے بیٹوں کو بھی حضرت اسمعیل علیہ السلام کی طرح ذوق شوق سے قربان ہونے کا موقعہ دنے سوائے میرے اور میرے بچوں کے کوئی احمق بھی یہ خیال نہیں کر سکتا کہ وہ یہ دعا کرتے ہوئے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس سے مستثنیٰ قرار دے لیتا ہے۔کوئی ہے حیا ہی ہوگا جو یہ کہے یکیں دعا کرتے ہوئے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو مستثنی قرار دے لیتا ہوں۔اگر یہ حماقت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تم نماز پڑھتے ہوئے تو یہ کتنے ہو کہ اے اللہ تو مجھے اور میری اولاد کو قربان ہونے کی توفیق عطا فرما لیکن باہر جا کر کوشش کرتے ہو کہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی جائیں بچ جائیں۔عید الا ضحیہ اس بات کی طرف توجہ دلانے کے لئے آتی ہے۔خدا تعالے کھتا ہے کہ ہم سال میں یہ ایک دن لاکہ یہ واقعہ تمہارے سامنے لے آتے ہیں تا تمہیں یادر ہے کہ درود میں جو تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے لئے دعا مانگتے ہو اس میں تم بھی شریک ہو۔یہ نہیں کہ تم دعا تو یہ کہو کہ اسے اللہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حفتر ابراہیم علیہ السلام کی طرح بیٹے قربان کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں حضرت اسمعیل علیہ السلام