خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 260 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 260

خدا ہمیں صنائع نہیں کرے گا یہ دیکھو کتنا ز بر دست ایمان اور عظیم الشان یقین ہے۔حضرت ہاجرہ کا یہ ایمان اور یقین ہی تھا جس نے حضرت ابراہیم کے ایمان اور یقین سے مل کر مکہ کو ایک آباد شهر بنا دیا۔دنیا کی عورتوں میں اس کی مثالیں بہت کم مل سکتی ہیں۔اول تو عورت ہوتی ہی کمزور دل کی ہے۔لیکن اگر کسی سے کہا جائے کہ آگ میں جل جاؤ یا چھری سے اپنے آپ کو ذبح کرلو تو یہ نسبتاً آسان ہے سجائے جنگل میں بھوکا مرنے کے۔جہاں اور نبی خطرات ہوں ممکن ہے شہر یا کوئی چیتا آنکہ بلاک کر دے یا پیاس سے تڑپنا پڑے اور بھوک سے مرنا ہو۔پھر اس کے علاوہ ایک اور بات ہے۔اور وہ یہ کہ ماں اپنی موت قبول کر سکتی ہے مگر اپنے بچے کی ایسی دردناک موت کو یہ داشت نہیں کر سکتی کہ اس کا اکلوتا لڑکا پانی کے گھونٹ اور روٹی کے نغمہ کے لئے ایڑیاں رگڑ کر مر جائے۔پھر حضرت ہاجرہ کے دل میں یہ وسوسہ بھی پیدا ہوتا ہوگا کہ ممکن ہے پہلے میں مرجاؤں اور بچہ ہی میں تڑپ تڑپ کر جان دے۔اس قسم کے خطرات کے باوجود ان کا اس قربانی کے لئے تیار ہو جانا ایسی بہت کا کام ہے جو ہمیشہ کے لئے یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔وہ ان سب صدمات کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوگئیں۔اور اپنی اور اپنے بچہ کی موت کے خوف کے باوجود اس دن کے انتظار کے لئے آمادہ ہو گئیں۔جب اللہ تعالے مکہ کو ایک شہر بنا دے گا۔یہ قربانی ہمیں بتاتی ہے ، کہ انسان مومین کامل اس صورت میں بن سکتا ہے جب وہ خدا تعالے کے سامنے اپنے آپ کو اس رنگ میں ڈال دے کہ اسے کسی خطرہ کی پرواہ نہ ہو۔بھوک اور پیاس کی تکلیف کا احساس مٹ جائے۔اور وہ دوستوں اور مددگاروں سے بالکل بے نیاز ہو جا ئے یہ قربانی اپنے اندر ہر قسم کی قربانی رکھتی ہے۔اس میں وطن کی قربانی بھی ہے فتنہ دار ہے اور دوستوں کی قربانی بھی ہے۔انسان چاہتا ہے کہ وہ ڈر سے بچ جائے مگر اس قربانی میں اطمینان کی قربانی سبھی شامل ہے۔گویا آرام کی ساری صورتیں یہاں مفقود تھیں۔ساتھی نہ تھے بیوطنی تھی۔بھوک پیاس سے بچنے کے سامان نہ تھے، اطمینان کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔مگر ان سب باتوں کے باوجود اللہ تعالے نے حضرت ہاجرہ کو توفیق دی۔اور انہوں نے ان سب خطرات کو قبول کیا۔اور سمجھ لیا کہ جب میں خدا تعالے کے لئے قربانی کرتی ہوں تو وہ مجھے کبھی ضائع نہیں کرے گا۔" سب انبیاء کی جماعتوں کو درجہ بدرجہ قربانی کرنی پڑتی ہے۔اس وقت جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں ان میں سے اکثر ہیں جن کو اپنے وطن قربان کرنے پڑے۔پھر اب تو قادیان میں حالات کچھ درست ہو گئے ہیں اور کچھ تجارتیں چل نکلی ہیں مگر جو لوگ ابتدائی زمانوں میں یہاں آئے ، ان کے گزارہ کی یہاں کوئی صورت تھی۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو اللہ تعالے نے ایک اعلیٰ درجہ