خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 228

بکرا ذبح نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے اپنی بیوی اور اپنے بچے کو قربان کر دیا تھا۔اگر تم واقعہ میں حضرت ابراہیم کی یاد تازہ کرتے ہوئے عید الاضحیہ میں حصہ لینا چاہتے ہو اگر تم یہ آرزو رکھتے ہو کہ آئندہ جب دنیا میں عید الاضحیہ منائی جائیں تو گو دنیا اسے حضرت ابراہیم کی قربانی کی یاد میں منائے مگر خدا تعالیٰ کے رجسٹر میں تمہارا نام بھی ہو اور آسمان پہ تمہاری قربانیوں کی یادگار میں بھی عید الاضحیہ منائی جائے تو تمھیں ابراہیمی صفات اپنے اندر پیدا کرنی چاہئیں۔کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عید صرف حصہ براہیم کی یاد میں منائی جاتی ہے اور ان کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں ہوا جس نے خدا تعالٰی کی راہ میں اپنی بیوی اور اپنے بچوں کو قربان کر دیا ہو کیا رسول کریم مسلے اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے جو قربانیاں کہیں وہ کوئی معمولی ہیں اور کیا ان کے بعد ہزاروں ایسے لوگ نہیں ہوئے جنہوں نے اپنے بیوی بچے خدا تعالے کی راہ میں قربان کر دیئے۔یقیناً ایسے لوگ ہوئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں ہوتے ہیں لیکن چونکہ اتنی لمبی لیسٹر 4157) لوگ یاد نہیں رکھ سکتے۔اس لئے دنیا کے لوگ تو یہ عید صرف حضرت ابراہیم کی قربانی کی یاد میں مناتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی لیسٹ میں ان تمام لوگوں کے نام درج ہوتے ہیں جنہوں نے اس کی راہ میں قربانیاں کیں جب عبید الا ضحیہ آتی ہے اور لوگ اسے حضرت ابراہیم کی یاد میں مناتے ہیں اس وقت خدا ان سارے شہداء کی یاد میں یہ عید مناتا ہے جنہوں نے اس کے لئے قربانیاں کیں۔اسی طرح خدا تعالے کے فرشتے ان سارے شہداء کے نام پہ یہ عید مناتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو خدا تعالے کے بستہ میں قربان کر دیا۔ہمارے سامنے آج وہ بکرے ہوتے ہیں جن کے گلوں پر ہم چھریاں پھیرتے ہیں اور میرے جیسے عدیم الفرصت انسان کے سامنے تو بکرا بھی نہیں ہم ہوتا۔کوئی دوسرا ہی اسے ذبح کرتا ہے مگر خدا تعالے کے دربار میں یہ بکرے نہیں ہوتے۔بلکہ آج جب کہ دنیا میں بکروں پر چھریاں پھر رہی ہوں گی خدائق لئے کے سامنے حضرت ابراہیم کو پیش کیا جارہا ہوگا اور وہ اسے کہہ رہا ہوگا کہ اے ابراہیئے دیکھ تو نے اپنے بچے سمعیل کو میری راہ میں قربان کرنے کے لئے پیش کر دیا تھا دیکھ تو نے اپنی بیوی ہاجرہ کو ایک بے آب گیاہ جنگل میں میرے حکم کے ماتحت چھوڑ دیا تھا۔بے شک تو نے قربانی کی اور بہت بڑی قربانی کی۔مگر اسے ابراہیم ! ذرا دنیا کی طرف نظر اٹھا اور دیکھے کہ آج تیری نسل کسی کثرت سے تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔یہاں تک کے ریت کے ذروں کو گنا جا سکتا ہے مگر تیری نسل کے افراد کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔اب بتا کہ اسمعیل کی قربانی صنائع گئی یادہ دنیا میں عظیم الشان رنگ لائی اور ! بر استیم شرم سے اپنی آنکھیں نیچی کر لیتا ہو گا۔اور کہنا ہو گا۔اسے خدا۔نہیں میری قربانی تیرے انعاموں کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور پھر آج حضرت ابرا ہیم