خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 100

100 کیا بھی گیا ہے کہ تم میں سے ایک ایک کو دس دس کا مقابلہ کرنا پڑے گالی مگر با وجود اس کے انحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی غزوہ میں بھی یہ حالت نہیں ہوئی کہ ایک مسلمان کو دس کا فروں کا مقابلہ کرنا پڑا ہو۔زیادہ سے زیادہ ایک مسلمان کو پاس کافروں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں میں سے بھی زیادہ کا مقابلہ کرنا پڑا۔چنانچہ مسلمان ایک جنگ پر گئے ہوئے تھے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ جرنیل تھے۔مسلمانوں کی تعداد کم تھی۔ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ مرد بھیجی جائے۔انہوں نے کہلا بھیجا۔میں عقبہ کو بھیجت ہوں۔عقبہ ہزار آدمی کے برابر ہے سمجھ لو کہ ہزار آدمی بھیج دیا تو حضرت عمر آنحضرت صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بڑھ کر قربانی نہیں چاہتے تھے۔بلکہ بات یہ تھی کہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں وہ حالات پیدا نہیں ہوئے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت میں پیدا ہو گئے تھے اور ادھر مسلمان بھی ترقی کر گئے۔بعض وقت ایک عمل ہوتا ہے جو دوسرے دل میں رعب ڈال دیتا ہے اگر انسان خطرہ کے وقت اپنے تو اس سجا رکھے اور اپنی ACCUMULATIVE POWER کا بیجا استعمال کرے تو ایسا کام بھی کر لیتا ہے جو اس کی دھاک بٹھا دیا ہے ، خواہ وہ کمزور ہی کیوں نہ ہو۔حضرت مسیح موعود فرماتے تھے۔رستم کے گھر میں ایک دفعہ چور آیا وہ رستم سے زیادہ طاقتور تھا۔لیکن رستم کا نام چونکہ طاقت میں مشہور تھا۔چور کو اس سے کبھی طاقت آزمائی کا موقعہ نہ ملا تھا۔اس دن جب رستم نے پکڑا تو اس نے رستم کو گرا لیا۔اور اس کی چھاتی پر چوٹھ بیٹھا اس پر رستم نے چلا کر کہا۔آگیا رستم آ گیا رستم ! ایکشن کر چور بھاگ گیا۔یہ رستم کے نام کا اثر تھا کہ اس نے ایسے طاقتور کو بھگا دیا جس نے رستم کو گرایا ہوا تھا یہ تو عقبہ رضی اللہ عنہ کا معاملہ بھی ایک طرح پراسی رنگ کا ہے۔عقبہ بڑا ہے اور تھا۔اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہ کہلا بھیجنے پر کہ یہ ہزار آدمی کے برا بر ہے مسلمانوں کے دل میں تسلی پیدا ہو گئی۔دنیا میں جب کوئی انسان کوئی کام کرتا ہے تو اسے اس کے لئے طاقت بھی مل جاتی ہے یہی حال یہاں بھی ہے۔لیکن کام کرنے کا عزم ہونا چاہیئے۔پس ہماری جماعت جو کام کرنے کے لئے خدا نے قائم کی ہے کیونکر ہو سکتا ہے کہ اگر وہ کوئی کام کرنا چاہے تو اسے اس کی طاقت نہ ملے لیکن کام حالات کے لحاظ سے کئے جاتے ہیں۔چونکہ ابتدائی حالات مکمزور ہوتے ہیں اس لئے ابتدائی کام بھی ہلکے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ابتدائی مطالبوں اور آجکل کے مطالبوں میں فرق نظر آتا ہے۔پہلے جو مطالبہ کیا گیا وہ اس کی پہلی حالت کے مطابق تھا۔پھر جو کیا گیا تو وہ اسکی دوسری حالت کے مطابق تھا۔اسی طرح جیسے جیسے حالت ترقی کرتی چلی گئی ، مطابے بھی بڑھتے چلتے