خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 101

1+1 پس یہ توضیح نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بڑھ کر مجھے اشاعت کا شوق ہے اور ان سے بڑھکر تجھے دین کی خدمت کرنے کا خیال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام سے بڑھ کر اشاعت در خدمت دین کا شوق کیسے ہو سکتا ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں جاہلیت زیادہ تھی لوگ بالکل ابتدائی حالت میں تھے۔لیکن میرے زمانہ میں جو لوگ ہیں وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے تربیت یافتہ ہیں اس لئے اگر ان سے کوئی زیادہ مطالبات کئے جاتے ہیں تو وہ ان کی ترقی یافتہ حالت کے لحاظ سے ہیں اور پھر ان کو اور بھی ترقی دینے کے لئے ہیں۔دیکھو اگر ایک مالک ہمیار خادم سے تھوڑا سا کام لے کر اسے چھوڑ دے اور ایک داروغہ اس سے سارا دن کام لے جب کہ وہ تندرست ہے تو کوئی یہ اعتر امن نہیں کر سکتا کہ دیکھو جی مالک تو تھوڑا سا کام لے کر چھوڑ دیتا تھا۔لیکن دارد غہ اس سے سارا دن کام لیتا ہے۔اس کا یہ جواب ہے کہ اس وقت وہ بیمار تھا اور زیادہ کام نہیں کر سکتا تھا لیکن اس وقت تندرست ہے اور سارا دن کام کرنے کے قابل ہے۔یہی حال ہماری جماعت کا ہے کہ ابتداء میں وہ ایسی قربانیاں نہیں کر سکتی تھی جیسی اب کر سکتی ہے۔اور ایک زمانہ آرہا ہے کہ اس میں جو قر با نیا ل ہماری جمات کر سکے گی آج نہیں کر سکتی۔پس جن دوستوں نے یہ خیال کیا ہے کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے زیادہ خدمت دین کا شوق رکھتا ہوں یا میں نے آپ کی مقرر کی ہوتی صد سے تجاوز کیا ہے یا ئیں نے چندوں اور وصیتوں کی شرح میں اپنی طرف سے اضافہ کر دیا ہے، انہوں نے غلطی کی ہے۔جو اس قسم کے خیال کو دل میں جگہ دی ہے ایسے خیالات ترقی کے راستے میں روک ہو جاتے ہیں۔پس اگر میں اللہ تعالے کی اس منشاء کو دیکھتے ہوئے کہ ان سلسلوں کی ترقی ان کی قربانیوں کی طرح آہستہ آہستہ ہوتی ہے جو عیسوی مماثلت رکھتے ہیں اس تدریجی ترقی کے رہتے ساتھ قدم نہ بڑھاؤ کی تو یہ ایک خلاف قدرت فعل ہوگا۔اور ہر وہ فعل جو خلافت قدرت ہو خدا تعالے کی ناراضگی کا باعث ہوتا ہے۔اور اس کے کرنے سے کوئی شخص خدا کو خوش نہیں کر سکتا۔حضرت صاحب نے جو کچھ کیا وہ تمہاری ابتدائی حالت کو مد نظر رکھ کر کیا مگر اب معماری ابتداء نہیں۔اب خالی ایمان ہی نہیں بلکہ دس یا نہیں یا تیس سال کی مجموعی طاقت بھی ساتھ ہے۔اس لئے آج جس قربانی کی امید تم سے کی جاسکتی ہے اس وقت نہیں کی جاسکتی تھی۔اور جیسا کہ میں نے بتایا جو مثیل مولتے نبی تھے ان میں پہلے تزکیہ اور طہارت اور بعد میں قربانیاں ہوتی ہیں۔اور جوشیل مسیح ہیں ان میں تزکیہ قربا نیوں کے بعد ہوتا ہے۔یہی اصول یہاں بھی جاری ہے کیونکی یہ ظاہر ہے کہ حضرت صاحب مشیل سیتیم ہیں۔پس ہما را تزکیہ قربانیوں کے بعد ہے۔جوں جوں ہم قربانیا کرتے چلے جائیں گے توں توں ہمیں تزکیہ اور طہارت حاصل ہوتی جائے گی۔اور جتنی دیر ہم قربانیوں