خطبات محمود (جلد 2) — Page 86
کی ہر طرح سے خدمت کی اور آپ کو آرام پہنچانے میں ہر طرح رح کی کوشش اور رسعی کی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ خواہ کوئی کتنی ہی محبت کرے اور آرام پہنچانے کی کوشش کرے ، بچہ وہ آرام اور لذت حاصل نہیں کر سکتا جو ماں باپ کی محبت اور سلوک سے حاصل کرتا ہے۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ابو طالب نے اتنے لیے عرصہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کی ہے کہ کوئی بڑا ہی وفادار دوست اتنے لیے عرصہ تک تکلیفوں میں ساتھ دے سکتا ہے۔ اگر چہ وہ آپ پر ایمان نہ لائے مگر کفار کے بائیکاٹ کے تین سال بھوکوں اور فاقوں میں کاٹنے انہوں نے منظور کئے اللہ که گاه مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑا ۔ ایک دفعہ قوم کے لوگوں نے ان سے آلہ کہا کہ ہم تم کو بہتر سے بہتر نوجوان دیتے ہیں اس کو تم پال لو مگر اپنے اس بھتیجے کا ساتھ چھوڑ دو جس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ او نادانو ! کیا تمہاری یہ مرضی ہے کہ اپنے بچے کو تو میں دشمنوں کے آگے ڈال دوں اور اور ن تمہارے بیچتے لے کر پالوں کے پس بوجہ اس کے کہ حضرت علی ابو طالب جیسے محسن چچا کے بیٹے تھے آپ کو وہ بہت عزیز تھے ۔ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو محض اس لئے ہی اپنے نواسوں سے محبت نہ تھی کہ وہ آپ کے نواسے تھے بلکہ اس لئے بھی آپ کو ان سے بہت زیادہ محبت تھی کہ وہ حضرت علی اور حضرت فاطمہ کے بیٹے تھے۔ مگر با وجود اس محبت کے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ خیال نہ فرمایا کہ انہیں بیچین میں آداب سکھانے کی ضرورت نہیں۔ یہ جب بڑے ہوں گے تو خود ان کی اصلاح ہو جائیگی بلکہ نجین میں اس بات کا خیال رکھا۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ کے پاس صدقے کی کچھ کھجوریں آئیں ۔ ان میں سے ایک کھجور امام حسین نے اٹھا کر منہ میں ڈال لی۔ آپ نے یہ دیکھ کر خاموشی اختیار نہ کی اور صرف اتنا ہی نہ کیا کہ کھجور ان کے منہ سے نکلوا دی۔ بلکہ ان کے منہ میں انگلی ڈال کر کھجور کے چھوٹے چھوٹے ذرات بھی نکال دیئے گیے ہیں سمجھتا ہوں آج اگر کوئی شخص ایسا معاملہ اپنے بچے سے کرے تو کئی لوگ ہوں گے جو کہدیں گے جی بچہ تھا۔ ایک کھجور منہ میں ڈال لی تو کیا حرج ہو گیا ۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے نواسے کے نہ میں انگلی ڈال کر کھجور کے ذرے نکالے ، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امام حسین روتے اور ضد کرتے ہوں گے ۔ مگر آپ نے اس کی کچھ پرواہ نہ کرتے ہوئے ان کے منہ میں انگلی ڈال کر کھجور کے ذرات تک نکال ڈالے ۔ اور یہ تھپڑ مارنے سے کم نہیں ہے۔ پھر ان کی اسی عمر کا واقعہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے آگے سے کھانا نہیں کھا رہے تھے۔ جس پر آپ نے فرمایا۔ اپنے آگے سے لو اور داہنے ہاتھ سے کھاؤ ۔ كُلْ بِيَمِينِكَ وَ مِمَّا يبليك لیے یہ اڑھائی برس کی عمر کی تربیت کا واقعہ ہے ۔ جس سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ کس عمر سے بچے کی تربیت کا زمانہ شروع ہوتا ہے۔