خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 77

८८ قرآن کریم پڑھتے ہیں مگر پھر بھی حضرت ابراہیم علی ابراہیم علیہ السلام کیا اس کے غلام کیا اس کے غلاموں جیسے بھی نہیں بنتے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے غلاموں کا تو بڑا درجہ ہے مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام اور اور ان کے غلاموں جیسے بھی نہیں بنتے۔ اسی و اسی فقرہ سے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خدا اتقاء العالے نئے فرمایا کہ جاؤ ہم نے تمھیں لوگوں کا امام بنا دیا۔ بی لوگوں کا امام بنا دیا ۔ مگر اوروں پر ایسا اثر نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ یہ ہے که محض حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل کا اثر اور کیفیت تھی جس نے اس فقرہ سے ایسا اثر قبول کیا کہ آپ ابراہیم بن گئے اور ایسا درجہ اور رتبہ ملا کہ نہ صرف خود بنی بنے بلکہ نبیوں کے باپ بن گئے حتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی احسان کے طور یہ آپ ہی کی نسل سے ہوئے اور بیٹا خواہ کتنا بڑا ہو جائے باپ کا ادب ہی کرتا ہے، چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان بہت ہی اعلیٰ اور ارفع ہے مگر آپ نے یہی سکھایا کہ اللهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّد وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيم يه رسول کریم صلی الله علیہ و آلہ و سلم عبودیت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑھ کر تھے۔ مگر اس لحاظ سے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آپ کے باپ تھے یہ اور تھے یہ ادب ملحوظ رکھا ھا تو خدا تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو وہ درجہ دیا کہ سب نبیوں کا بار باپ بنا دیا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآ یہ وآلہ وسلم آپ کی نسل سے ہوئے اور حضرت مسیح موجود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہے ۔ یہ عید کیا ہے اس فقرہ کی یاد ہے کہ خدا تعالے نے کہا۔ اسلام اپنے آپ کو میرے سپرد کردے اور میرے لئے قربان کر دے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا اسکمت میں نے اپنی جان آپ کے کردی ۔ سپرد کر دی۔ اسی کی یاد میں یہ عید ہے اعمالی مونہ سکے لیئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کہا گیا قربانی کے لئے بیٹا لاؤ اور انہوں نے وہ بھی پیشیں کر دیا ہے آپ سے وطن کی قربانی مانگی ۔ وہ بھی آپ نے دے دی۔ غرض کہ ہر ایک پیاری سے پیاری چیز آپ نے خدا کے لئے قربان کر دی۔ اسی کی یاد گار فید ہے ۔ پس غیر یاد گار ہے اس امر کی کہ جو کوئی خدا کی بات کو سنتا اور اس طرح سنتا ہے کہ چھوٹی سے چھوٹی بات کے لئے قلب کھول کر بیٹھتا ہے وہ گو مر جاتا ہے اور اس پر صدیاں گذر جب تی ہیں مگر ہذا اسے مرنے نہیں دیتا۔ کیونکہ اس کی زندگی سے خدا تعالیٰ کا کلام زندہ رہتا ہے۔ یہ مختصر سی نصیحت ہے جو میں اس وقت کرنا چاہتا ہوں ۔ اس سے زیادہ میں اس وقت نہیں بول سکتا کیونکہ سینہ میں درد ہوتی ہے ۔ دوسرا خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا :- میں اس خطبہ کے طریق کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں جس طرح عید لوٹ لوٹ کر آتی ہے اسی طرح