خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 75

11 ا فرموده ۲۵ جولائی ۱۹۲۳ء بمقام مسجد نور قادیا، کو بوجہ نزلہ اور کھانسی نہیں بول نہیں سکتا تھا مگر میں نے مناسب سمجھا کہ کیونکہ عید کا دن ہے اس لئے میں اپنی زبان سے ہی چند کلمات کہہ دوں ۔ کیو نے خطبہ کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ بہت مباسی ہو بلکہ بعض دفعہ نہایت مختصر الفاظ میں خطبہ کردیا جاتا رہا ہے۔ اور اسی سے فائدہ ہوتا رہا ہے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق بعض لوگوں نے لکھا ہے گو تاریخی طور پر مجھے معلوم نہیں مگر صوفیاء کہتے ہیں کہ خلافت کے پہلے دن جب آپ خطبہ پڑھنے کے۔ ھنے کے لئے کھڑے ہوئے ہوئے تو چند مسنون الفاظ پڑھکر مٹھ گئے ہے صوفیاء کہتے ہیں۔ اس وقت ان کا اس طرح خوشی میچھ جانا ہی شعبہ تھا۔ گویا ان کی وہ جو خموشی تھی وہی خطبه عقار تو بعض اوقات خوشی بھی خو وقات نموشی بھی خطبہ ہو جاتی ہے اور اس کا اتنا اثر ہوتا ہے جو بڑے لیکچر کا نہیں ہوتا۔ در اصل خطبات کی بڑائی اور عظمت ان کی مبانی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس اخلاص کی وجہ سے ہوتی ہے جس سے سنانے والا بنائے اور سننے والا سنے ۔ اگر سنانے والا اخلاص سے سنائے اور سننے والا قبول کرنے کے لئے سنے تو چھوٹی بات بھی بہت بڑا اثر کرتی ہے ۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا ہو تو بڑے سے بڑا لی کچھر بھی کچھ فائدہ نہیں دیتا ۔ چربی صوفیاء نے لکھا ہے ایک شخص تھا جو کئی قسم کی برائیوں اور بدکاریوں میں مبتلا تھا اسے بڑی صیحتیں کی گئیں مگر وہ یہی کہے کہ نادان ہیں وہ لوگ جو دنیاوی چیزوں کو عیش و عشر کے لئے استعمال نہیں کرتے ۔ ایک دن وہ گلی میں سے گزر رہا تھا کہ ایک آدمی قرآن کریم پڑھ رہا تھا اس وقت اس کے کان میں یہ آیت پڑی ۔ اَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لذِكْرِ اللہ کی کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مومنوں میں آیا کہ مومنوں کے قلوب ڈر جائیں۔ ڈر جائیں۔ اس آیت کا ایک سخت اس پہ اثر ہوا اور اس نے اس کی حالت کو بدل ڈالا ۔ تو لمبے لمبے وعظ ، طول طویل لیکچر ، اور عجیب عجیب بکتے تو اس کے لئے کچھ بھی مفید نہ ہوئے ۔ مگر ایک شخص جو اپنے طور پر آیت پڑھ رہا تھا اور ادھر سے یونہی گزر رہا تھا اس کا ایسا اثر ہوا کہ اس میں تاب مقاومت نہ رہی اور اس کی ایک سخت اصلاح ہو گئی شیشہ نماز عید بوجہ بارش عید گاہ کی بجائے مسجد نور میں ادا کی گئی ۔ والفضل ۲۱ جولائی سے ۱۹۲۳ شه