خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 72

۷۲ ات پھر آپ اس عید کے خطبہ میں قربانی کے احکام بیان فرمایا کرتے تھے ۔ چنانچہ اس عید کے احکام ہیں کہ ہر سے یہ ہیں کہ ہر ایک خاندان کی طرف سے ایک بکرے کی قربانی ہو سکتی ہے ۔ اگر کسی میں وسعت ہو تو با یک اگر شخص بھیجا کر سکتا ہے۔ ورنہ ایک خاندان کی طرف سے ایک قربانی کافی ہے وہ یہاں خاندان سے دور و نزدیک کے رشتے مراد نہیں۔ بلکہ خاندان کے معنے ایک شخص کے بیوی بچے ہیں ۔ اگر کسی شخص کے لڑکے الگ الگ ہیں اور اپنا علیحدہ کھاتے ہیں تو ان پر علیحدہ قربانی فرض ہے۔ اگر بیویاں آسود ، ہوں اور اپنے خاوندوں سے علیحدہ ان کے ذرائع آمد ہوں تو وہ علیحدہ قربانی کر سکتی ہیں۔ ورنہ ایک قربانی کافی ہے۔ بکرے کی قربانی ایک آدمی کے لئے ہے اور گائے اور اُونٹ کی قربانی میں سات آدمی شا شامل ہو سکتے ہیں ہے ائمہ کا خیال ہے کہ ایک گھر کے لئے ایک حصہ کافی ہے اگر گھر کے سارے آدمی سات حصے ڈالیں تو وہ بھی ہو سکتا ہے۔ ورنہ ایک گھر کی طرف سے ایک حصہ بھی کافی ہے۔ اور اس طرح ہر ایک شخص کی طرف سے آج کے دن قربانی ہو جاتی ہے ۔ لیکن کئی لوگ غریب ہوتے ہیں۔ اس لئے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ کوئی شخص قربانی سے محروم نہ رہ جائے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دستور تھا کہ غربار است کی طرف سے ایک قربانی کر دیا کرتے تھے اسی طریق کے مطابق میرا بھی تعدہ ہے کہ اپنی جماعت کے غرباء کی طرف سے ایک قربانی کر دیا کرتا ہوں ۔ تو اس کے بعد یہ بات یاد رکھو کہ ہماری جماعت میں اس بات کی سکتی ہے کہ نماز عید وقت پر پڑھیں ۔ گو پہلے کے لحاظ سے آج ہم نے جلدی نماز پڑھی ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے زمانہ میں یہ عید اس وقت پڑھی جاتی تھی جب کہ آفتاب ایک نیزہ کی بلندی پر ہوتا تھا ۔ اور رمضان کے بعد کی عید اس وقت پڑھی جاتی تھی۔ جب کہ آفتاب دو نیزے کی بلندی پر آجاتا تھا۔ لیکن ہم نے آر نے آج جس وقت عید کا خطبہ شروع کیا ہے چار نیزے کے برابر سورج بلند ہو چکا تھا حالا نکہ ابھی ہم نے جلدی کی تھی ۔ اصل بات یہ ہے کہ بعض غلطیاں غلط فہمیوں کے باعث ہو جاتی ہیں۔ ایک دعوت میں میں نے ایک شخص کو بائیں ہاتھ سے پانی پینے سے روکا تو اس نے کہا کہ حضرت صاحب بھی بائیں ہاتھ سے پانی پیا کرتے تھے ۔ حالانا حضرت صاحب کے ایسا کر کی ایک وجہ تھی اور وہ یہ کہ آپ بچپن میں گر گئے تھے۔ جس سے ہاتھ میں چوٹ آئی اور ہاتھ اتنا کمزور ہو گیا تھا کہ اس سے گلاس تو اٹھا سکتے تھے۔ مگر منہ تک نہ لے جا سکتے تھے۔ مگر سنت کی پابندی کے لئے آپ کو بائیں ہاتھ سے گلاس اٹھانے تھے مگر نیچے دائیں ہاتھ کا سہارا بھی دے لیا سے لیا کرتے تھے ۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں عید کی نماز کے لئے دیر ہو جایا کرتی تھی اور اس میں ایک حکمت تھی اور وہ یہ کہ باہر کی با کتاب الفقة على المذاہب الاربعة جلد المدا