خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 73

ناختیں تھوڑی تھیں، احباب بیرون جات سے نہیں آتے تھے۔اس لئے ریل کے وقت کا انتظار کرنا چاہتا تھا۔کیونکہ ریل تو کسی کے اختیار میں نہیں تھی۔اور نو یا ساڑھے نو بجے بٹالہ میں ریل سے اتر کمہ یہاں پہنچ جاتے تھے اور اس صورت میں انتظار جائز ہے۔اور اگر ضرورت ہو تو زوال تک بھی انتظار ہو سکتا ہے لیکن اب یہ حالت نہیں۔یہ جگہ ہماری جماعتیں کافی تعداد میں ہو گئی ہیں۔اس طرح انتظار کی ضرورت نہیں ہوتی۔اب اگر ہو گا تو محض سستی سے ایسا کیا جائے گا۔بچونکہ احتیا پہنت ہمارا فرض ہے اس لئے عید کی نمازیں مطابق سنت ہونی چاہئیں۔اور اس عید میں جلدی کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ لوگوں نے قربانی کرنی ہوتی ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے کہ قربانی کے گوشت سے کھانا کھاتے تھے یہ اب اگر اس وقت نماز پڑھی جائیگی تو قربانی کا گوشت کھانے کے وقت تک تیار نہیں ہو سکتا۔قربانی کے جانور کے لئے یہ شرط ہے کہ بکرے وغیرہ دوسال کے ہوں۔دُنبہ اس سے چھوٹا بھی قربانی میں دیا جاسکتا ہے۔قربانی کے جانور میں نقص نہیں ہونا چاہیئے۔لنگڑا نہ ہو ہمیار نہ ہو سینگ ٹوٹا نہ ہو یعنی سینگ بالکل ہی ٹوٹ نہ گیا ہو۔اگر خول اوپر سے اُتر گیا ہو ا در راس کا مغز سلامت ہو تو وہ ہو سکتا ہے۔کان کٹا نہ ہو لیکن اگر کان زیادہ کٹا ہوا نہ ہو تو جائز ہے لیے قربانی آج اور کل اور پرسوں کے دن ہو سکتی ہے لیے لیکن اگر سفر ہو یا کوئی اور مشکل ہو تو ہوتے تو حضرت صاحب کا بھی اور بعض اور بزرگوں کا بھی خیال ہے کہ اس سارے مہینہ میں قربانی ہوتی ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ ان دنوں میں تیسرے دن تک تکبیر تمی کیا کرتے تھے کیلیے اور اس کے مختلف کلمات ہیں۔اصل غرض تکبیر و تحمید ہے خواہ کسی طرح ہو۔اور اس کے متعلق دستور تھا کہ جب مسلمانوں کی جماعتیں ایک دوسری سے ملتی تھیں تو تکبیریں کہتی تھیں مسلمان جب ایک دوسرے کو دیکھتے تو تکبیر کہتے۔اٹھتے بیٹھتے تغیر کتنے کام میں لگتے تو تکبہ کہتے ہو لیکن ہمارے ملک میں جو یہ رائج ہے کہ محض نماز کے بعد کہتے ہیں اس خاص صورت ہیں کوئی ثابت نہیں اور یہ غلط رائج ہو گیا ہے باقی یہ کہ تکبیر کس طرح ہو یہ بات انسان کی اپنی حالت پر منحصر ہے جس کا دل زور سے تکبیر کہنے کو چاہے وہ زور سے کیے جس کا آہستہ وہ آہستہ مگر آواز نکلنی چاہیئے۔قربانیوں کے گوشت کے متعلق یہ ہے کہ یہ صدقہ نہیں ہوتا۔چاہیئے کہ خود کھائیں۔دوستوں کو دیں چاہے تو سکھا بھی لیں یا امیر غریبوں کو دیں۔غریب امیروں کو کہ اس سے محبت بڑھتی ہے لیکن محض امیروں کو دینا اسلام کو قطع کرتا ہے اور محض غریبوں کو دنیا اور امیروں کو نہ دنیا اسلام میں درست نہیں۔امیروں کے غریبوں اور غریبوں کے امیروں کو دینے سے محبت بڑھتی ہے۔اور یہ