خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 66 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 66

५५ وہ باد ریر کہ اسے کوئی موقع خدمت کا دیا گیا، ہزار درجہ بہتر اور لاکھ درجہ افضل ہے اس انسان سے جو سارا دن مسازوں اور تسبیح و تحمید میں گزار دیتا ہے ۔ اور سارے مال کو اللہ کی راہ میں تف میں تقسیم کر دیتا ہے میلہ مگر بھی اس کے اندر و ہ مادہ پیدا نہیں ہوتا جس کے ذریعہ سے وہ ہر ہر ایک ایک حکم ا کے لئے اپنے آپ کو بشرح صدر تیار پاتا ہے یا اس کا نفس بعض احکام پر برا مانتا اور ان کی اطاعت میں اپنی حق تلفی سمجھ لیتا ہے۔ در حقیقت وہ مسلم نہیں ۱۰ نہیں ، اس کے نفس نے اس کو دھوکا دے رکھا ہے۔ اور اس میں وہ رگ باقی ہے جس کی وجہ سے ابلیس راندہ درگاہ ہوا ۔ قربانی کے معنے ہیں کہ انسان ایک مردہ کی طرح ہو جائے جو بدست زندہ ہو وہ اسے جدھر چاہے پھیر دے اور جہاں چاہے رکھ دے۔ نہ کوئی اس کی خواہش ہو اور نہ اس کا اپنا کوئی جند یہ ہو۔ وہ اپنے ارادے اور نیت کو بالکل کھو چکا ہو۔ ایسا مردہ انسان بلکہ بے حس و حرکت پتھر بھی لاکھ درجہ بہتر ہے اس انسان سے جو اپنے ظاہری اعمال سے ا اعمال سے اپنے اسلام و فرمانبرداری کا دعونی کرے مگر امتحان کے وقت جھوٹا ثابت ہوں اور ابارہ استکبار کرے ۔ کہتے ہیں کہ ابلیس بڑا عابد و زاہد تھا ۔ یہ مان لیا کوئی بعید از قیاس بات نہیں بلکہ قرین قیامت ہے کیونکہ ہمیشہ انبیاء و صادقین کی آمد سے پہلے بھی ایک ایسا گروہ موجود ہوتا ہے جو مدعی اسلام و فرمانبرداری ہوتا ہے۔ دور کی بات نہیں ہمارے اسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب سے بڑے دشمن مولوی محمد حسین بٹالوی ہی کی نسبت ہم نے تحقیقات کرائی ہے۔ وہ شریعیت کے ظاہری احکامہ کا بڑا پابند تھا۔ تہجد گزار تھا اور سوائے خاص مجبوری کے تہجد ترک نہ کرتا تھا۔ انبیا رو راستبازوں کی آمد سے پہلے ایک گروہ ایسا بھی ہوا کرتا ہے۔ اور ایک گروہ ایسا بھی ہوا کرتا ہے جیسے مولوی ثناء اللہ عین آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ بعثت سے پہلے بھی ایک شخص زید نامی مشہور زاہد تھا اور وہ شرک کے خلاف وعظ بھی کیا کرتا تھا اور ایسی غیرت کا اظہار کیا کرتا تھا کہ ایک دفعہ انحضرت صلہ اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے کھانے کے لئے بلوایا تو اس نے جواب دیا کہ میں تمہارا کھانا نہیں کھا سکتا کیونکہ تم لوگ مشرک ہو مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے یقین دلایا کہ ہم لوگ ہرگز مشترک نہیں ہیں ۔ مگر آخر ایسا ندھی بھی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مبعوث ہوئے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت نبوت کا اعلان کیا تو شاکی ہوا اور اس نے اپنی حق تلفی فی بھی کہ خدمات تو میں نے کی ہیں اور نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مل گئی۔ اباد کیا، استکبار دکھایا، مرود ہوا اور محروم رہ گیا ۔ رہ ۔ عرض ، باد استکبا۔ ایک ایسی آگ ہے جو ایک دم میں سالہا سال کی محنت، ریاضت، زن و تعد ده