خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 58

۵۸ ہوتا ہے مگر خدا تعالے کے لئے جو قربانی کیجاتی ہے اس کے متعلق وہ فیصلہ کرتا ہے کہ قبول کروں یا رد کروں ۔ پس یہ در اصل قربانی نہیں بلکہ خدمت ہوتی ہے جو انسان اپنے ہی فائدہ اور نفع کے لئے کرتا ہے اور اس کو قربانی اس لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ خدا تعالے نے اس کا نام قربانی رکھا ہے ۔ پس جس کسی کو دین کی خدمت کرنے کا کوئی موقع ملے اس کو اس پر کوئی ٹھنڈ نہیں کرنا چاہیئے کیونکہ اس کی خدمت کے متعلق تو ابھی یہ سوال درپیش ہوتا ہے کہ خدا کے حضور وہ قبول ہوئی بھی ہے یا نہیں ۔ وہ لوگ جنہوں نے دین کی کوئی خدمت کر کے یہ خیال کیا کہ ہم بھی کچھ کر رہے ہیں اور کچھ کر سکتے ہیں وہ تباھی کے گڑھے کے کنارے نہیں بلکہ گڑھے میں گر گئے اور ہمیشہ کی تباہی میں مبتلا ہو گئے ۔ یہ آیات جو میں نے پڑھی ہیں ان ان میں آدم کے دو بیٹوں کا ذکر ہے ۔ یہ یہ کوئی کوئی خاص بیٹے نہیں ۔ کوئی ہوں ۔ ان دونوں نے خدمت یعنی قربانی کی جن میں سے ایک کی رو ہو گئی اور دوسرے کی قبول ہو گئی اور معزز و مکرم وہی ہوا جس کی قربانی خدا تعالے نے قبول کر لی۔ بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے قربانیاں کی ہیں اور اس یہ فخر کرتے ہیں لیکن یہ نہیں جانتے کہ صرف قربانیاں کرنا قابل فخر بات نہیں ہے یوگی تو ہابیل بھی کہتا تھا کہ میں نے قربانی کی ہے لیکن کیا وہ اس کے لئے قابلِ فخر قربانی تھی۔ ہر گز نہیں ۔ پس یہ کہنا کہ میں نے فلاں قربانی کی ہے کوئی عزت اور فخر کی بات نہیں ہے ۔ کیا آدم کا وہ بیٹیا جس کی قربانی خدا تعالے نے قبول نہ کی ۔ معزز و مکرم ہوا یا ذلیل و خوار ۔ خدا تعالے کہنا ہے کہ وہ ذلیل ہی ہوا یہ تو محض قربانیاں کرنا کوئی فخراور عزت کی بات نہیں ۔ ہاں خدا تعالے کا کسی قربانی کو قبول کر لینا فخر اور عورت ہے۔ اگر ایک شخص بہت بڑی قربانیاں کرتا ہے ۔ مگر خدا تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں ہوتیں تو اس کے لئے کوئی فخر نہیں لیکن اگر کوئی شخص ایک پیسہ کی قربانی کرتا ہے اور خدا تعالے کے ہاں قبول ہو جاتی ہے تو یہی اس کے فخر کا باعث ہے تو اس سعید پر اس لئے فخر نہیں ہونا چاہیے کہ قربانی کرنے سے موت حاصل ہو جاتی ہے بلکہ سمجھنا چاہیئے کہ قربانی قبول ہونے سے عورت ملتی ہے چونکہ ہمارا سلسلہ اللہ تعالے کی جانب سے ہے اور اس میں داخل ہونے والوں کو بھی بڑی بڑی قربانیاں کرنے کی ضرورت ہے اس لئے ہماری جماعت کے لوگوں کو خوب اچھی طرح خیال رکھنا چاہئیے کہ کوئی قربانی کر دینے سے اس وقت تک عورت حاصل نہیں ہو سکتی جب تک کہ خدا تعالے قبول نہ کر لے ۔ ہاں جب خدا تعالیٰ قبول کرلے تو اس وقت عزت حال ہوتی ہے اور جب خدا قبول کر لیتا ہے تو پھر بندہ اس پر فخر نہیں کرتا ۔ اس پر ۔ ان میں نے پڑھی خدا دو ہے کی ان آیات میں جو میں نے پڑھی ہیں خدا تعالے دو آدمیوں کا ذکرتا ہے کہ دونے قربانی کی ایرانی تھی ان میں سے ایک کی قبول ہو گئی اور دوسرے کی رد کر دی گئی ۔ جس کی قبول ہوئی اس کا تو کوئی