خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 398

vod طریق دوسروں کے حقوق کو بھی نا جائز طور پر تلف کرنے والا ہے اور خود اپنی جماعت اور امام کو بھی تکلیف میں ڈالنے والا ہے اس لئے میں نے کہ دیا ہے کہ کسی کو انتظار میں مت بیٹھنے منتظمین پہلے پہلی صف والوں کو مصافحہ کرا دیں اور وہ باہر چلی جانے پھر دوسری صفت والوں کو مصافحہ کرائیں جب وہ باہر چلے جائیں تو تیسری صف والوں کو مصافحہ کرائیں ۔ جب وہ باہر چلے جائیں تو جو بھی صف والوں کو مصافحہ کرائیں جتنے لوگ مصافحہ کر لیں، کر لیں ۔ جو رہ جائیں رہ جائیں کسی کو یہ اختیار نہ ہو کہ وہ مرضی سے آگے جاتے۔ جو پہلی صف والا پہلے مصافحہ نہیں کرنا چاہتا وہ باہر جا کر بیٹھ جائے اور انتظار کرے پھر بعد میں اسے موقعہ مل جائے تو مصافحہ کرلے ورنہ صبر کرے ۔ یہ عید جیسا کہ میں نے شروع میں بتایا ہے قربانیوں کی عید ہے اور حضرت آجیل علیہ السلام کی یاد میں ہے میں نے کئی دفعہ بنایا ہے کہ حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی یہ نہیں تھی جیسا کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ انہیں ذبح کرنے کے لئے حضرت لئے حضرت ابراہیم نے زمین پر لٹا دیا تھا لیکن بعد میں خدا تعالے سے الہام الهام پا کر آپ نے ذبح کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور انہی اشارہ کی بناء پر ان کی جگہ ایک بکرا ذبح کر دیا۔ میں بار ہا بتا چکا ہوں کہ در حقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسمعیل علیہ السلام کے وادی مکہ میں چھوڑ آنے کے متعلق یہ رویا دکھائی گئی تھی۔ کیونکہ ایک بے آب و گیاہ وادی میں بیٹھ جانا بھی بہت بڑی قربانی ہے ۔ جیسے شروع شروع میں ربوہ میں چند آدمی جیسے لگا کر بیٹھ گئے تھے تاکہ اسے آباد کیا جائے ۔ وہ آدمی در حقیقت اس وقت امیسای سنت کو پورا کر رہے تھے، وہ صرف اس لئے یہاں میٹھے گئے تھے کہ آئندہ یہاں ربوہ آباد کیا جائے ۔ اگر وہ قربانی نہ کرتے اور ربوہ میں آخر جیسے لگا کر نہ سمجھ جاتے تو نہ یہ شہر بنتا نہ سڑکیں نہیں نہ بازار بنتے ، نہ مکانات بلغے اور یہ جگہ پہلے کی طرح چٹیل میدان ہی رہتی۔ امریکہ مین فری تھنکنگ (FREE THINKING ) کی سحریک پیدا ہوئی ہے اس کا بانی ایک فرانسیسی شخص ہے اس نے اپنا قصہ یہی لکھا ہے کہ میں ایک دن اپنے باپ کے ساتھ ایک پادری کا وعظ سننے گیا تو وہاں اس نے یہ کہا کہ ابراہیم بڑا نیک انسان تھا اس نے خدا کی خاطر اپنے انکلوتے بیٹے کے گلے پر چھری پھیر دی ۔ وہ لکھتا ہے کہ اتفاق کی بات ہے میں بھی اپنے باپ کا اکلوتا بیٹا ہی تھا میں وہاں سے نکل کر بھاگا۔ میرے دل میں یہ خون پیدا ہوا کہ اگر میرے باپ کو یہ خطہ پسند آگیا تو وہ کہیں میری گردن پر بھی چھری نہ پھیر دے۔ میں سمندر پر گیا وہاں ایک امریکہ جانیوالا جہاز کھڑا تھا ئیں اس میں گھس گیا اور کسی کو نہ میں چھپ کر بیٹھ گیا۔ اور اس طرح امریکہ پہنچ گیا۔ یہاں آکر میں نے یہ دہریوں والی تحریک جاری کی ہے نے جاری کیا ہے غرضیکہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام کی قربانی کو غلط تشکل میں پیش کیا جاتا ہے