خطبات محمود (جلد 2) — Page 393
۳۹۳ اور تمھیں اپنے دشمنوں پر غلبہ عطا کرے گا۔ پس تم عید الا صحیہ منانے کے لئے اپنا نمونہ پیش کر وہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو شخص خدا تعالٰے کے لئے ہجرت کے کے لئے ہجرت کرتا ہے ۔ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مَرَاعاً كَثِيرًا وَسَعَد وہ دنیا میں بڑی کشائش اور ترقی کے سامان پاتا ہے۔ تم دوسرے مہاجروں سے اپنا مقابلہ کر دے اور دیکھو کہ خدا تعالے نے تمہارے ساتھ کسی قدر امتیازی سلوک کیا ہے ۔ تمہارے خدا نے تھیں ایک علیحدہ شہر بسانے کی توفیق دے دی ہے جس میں کا اطمینان سے زندگی بسر کر رہے ہو اور اگر تم اپنے ایمان اور اخلاص میں پڑھو تو یہ شہر انشاء اللہ خالی یک دن لائل پور کی طرح تر قی کر جائے گا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا گیا تھا کہ اللہ تعالی مکہ میں ہر قسم م کا کا رزق لائے گا ، در رزق لانے کے کچھ طریق ہوتے ہیں۔ اس زمانہ میں اللہ تعات نے یہ طریق اختیار کیا کہ ایک تجارتی قبیلہ وہاں آگیا ۔ وہ دوسرے ممالک میں تجارت کے لئے جاتا اور اپنے ساتھ دولت لاتا اور اس میں سے دسواں حصہ حضرت ہاجرہ اور اسمعیل کو دے دیا ۔ اس طرح گویا انہوں نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو اپنا بادشاہ بنا لیا۔ لیکن یہاں منتظم حکومت موجود ہے اور وہ اس قسم کے سیکس خود لیتی ہے اس لئے یہاں یہ صورت نہیں ہو سکتی۔ یہاں وہ لوگوں کو توفیق عطا کرے گا کہ وہ کارخانے کھولیں جس سے یہاں کے رہنے والوں کے لئے محنت اور مزدوری کے ذرائع نکل آئیں گے۔ اور بعد میں ترقی کر کے کراچی اور بیرونی ممالک سے تجارت کے وسائل پیدا ہو جائیں گے۔ لیکن یہ سب کچھ اسی وقت ہو گا جب تم حط ہو گا جب تم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح قربانی کرنے لگ جاؤ گے۔ جب تمہاری بیویاں ہاجرہ کی سی قربانیاں کرنے لگ جائیں گی اور تمہارے بیچے بیچے حضرت اسمعیل علیہ السلام کا سا نمونہ پیش کریں گے۔ جب حضرت ابراهیم علیه علیہ السلام السلام نے نے حضرت اسمعیل علیہ السلام سے یہ یہ ذکر کیا کہ انہوں نے خواب میں دیکھا ہے ذبح کر رہے ہیں تو حضرت اسمعیل علیہ السلام نے چیخیں نہیں ماریں۔ بلکہ فرمایا کہ آپ خدا تعالے کے حکم کی تعمیل کریں میں اس کے لئے بسر و چشم تیار ہوں کہیے پھر جب آپ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسمعیل علیہ السلام کو مکہ میں چھوڑ کر گئے تو حضرت ہاجرہ نے واویلا نہیں کیا بلکہ صرف اتنا پوچھا کہ آپ ہمیں اپنی مرضی سے یہاں چھوڑ کر جا رہے ہیں یا خدا تعالے کی طرف سے آپ کو ایسا کرنے کا حکم ملا ہے اس پر آپ نے آسمان کی طرف اشارہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ مجھے خدا تعالے کی طرف سے اس کا حکم ملا ہے ۔ حضرت ہاجرہ کے لئے آپ کا آسمان کی طرف اشارہ کرنا ہی کافی ہو گیا ۔ اور انہوں نے فرمایا ۔ اِذن لا يُضَيِّعنا ۔ اگر یہ بات ہے تو پھر خدا تعالئے ہمیں ضائع نہیں کرے گا۔ چنانچہ آپ حضرت اسمعیل علیہ السلام کے پاس واپس آگئیں اور اس کے بعد آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف نہیں دیکھا حضرت ابراہیم علیہ السلام کہ وہ اسے ذہ کے