خطبات محمود (جلد 2) — Page 29
۲۹ کسی خیراد نگ ۔ هذا الرجل دی گئی ہے ۔ گو کسی رنگ میں یہ بھی جواب ہو مگر بظاہر یہ خیال آتا ہے کہ صرف نہر کا مراد لینا دشمنوں کے سوال کو رد نہیں کر سکتا ۔ لیکن اگر کوثر کے معنی بغیر کثیر کئے جائیں تو سب باتیں اس میں آجاتی ہیں اور اس سے معلوم ہو جاتا۔ م ہو جاتا ہے کہ خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سب کچھ دیا ہے ۔ اور برادر بھلائی کے دینے میں کمی نہیں کی ۔ اور اگر اس کے معنی صرف شہر کے کئے جائیں تو یہ ایک بے معنی کلام بن جاتا ہے ۔ اور ایسی ہی بات بن جاتی ہے کہ کسی نے ایک شخص کو کہا کہ تو نے اپنے کھیت کو بار ٹیڑھی کیوں دی ہے اس نے کہا تو نے بھی تو اپنی لڑکی کا نکاح کیا ہی تھا ۔ مگر کیوں و خدا تعالیٰ کے کلام کے متعلق ایسا خیال نہیں کیا جا سکتا۔ پھر اس سے اس کے معنی صاف ہو جاتے ہیں کہ عربی میں یہ محاورہ ہے کہ بستر انور جل یعنی ایک ایسا شخص جس کی اولاد نرینہ نہ ہو یا نہ رہے اور یہ بھی کہ اس انسان میں کوئی خیر اور بھلائی نہ ہو۔ ان دونوں باتوں کا جواب خدا تعالے نے یہ دیا ہے کہ ہم نے تجھے کوثر عطا کی ہے۔ اس بات کا ثبوت کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر کفار یہ اعتراض کرتے تھے کہ آپ ابتر ہیں اس سے بھی مل سکتا ہے کہ کعب بن اشرف جب مکہ میں گہر ب بن ہیں گیا اور وہاں کے لوگوں نے اسے کہا کہ انت سيد المدينة وهذا ا حسابی المشتر کہ تو مدینہ کا سردار ہے اور یہ شخص (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، جو ابتر ہے وہ اچھا ہے یا ہم ۔ تو اس نے کہا کہ تم اچھے ہو تو کفار کے اس اعتراض کے متعلق خدا نیا گئے : فرماتا ہے کہ وہ چھوٹا ہے جو تجھے کہتا ہے کہ تیرے اندر کوئی خیر نہیں یا تو کوئی نرینہ اولاد نہیں رکھتا ۔ ہم نے تو تجھے ہر قسم کی خیر اور بھلائی دی ہے اور اولاد بھی ایسی دی ہے جیسی اور کسی کو نہیں دی ۔ عربی میں بستر الرجل: اس شخص کو کہتے ہیں جس کا کوئی لڑکا نہ ہو۔ خواہ لڑکیاں کتنی ہوں ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑکیاں تو تھیں مگر با وجود اس کے طبری میں آیا ہے ۔ کہ جب آنحضرت صلعم کے صاحبزاہ ابراہیم کی وفات ہوئی تو کفار نے آپ کو بستر الرجل کیا۔ جس ہے ان کی نہیں مراد تھی کہ آپ کوئی نرینہ اولاد نہیں رکھتے ہیں اس اعتراض کے جواب میں جب اللہ تعا لئے فرماتا ہے إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوثر تو ضرور ہے کہ اس میں اولاد کے متعلق اعتراض کا ہی جواب ہوا اور پھر اس میں عطائے خیر کی خبر بھی دی گئی ہو۔ پس اللہ تعالے نے اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ہم نے تجھے ایسی خیر کثیر عطا کی ہے جو اسی دنیا میں ختم ہونے والی نہیں ہے بلکہ جنت میں بھی جاری رہے گی ۔ یہ معنے کرنے سے کفار کا اعتراض رو ہو جاتا ہے اور یہی درست ہیں۔ گویا ان کو کہا گیا ہے کہ اگر تم یہ کہتے ہو کہ اس میں کوئی خیر نہیں تو یہ غلط ہے ہم نے تو اسے اتنی خیر عطا کی ہے کہ جو نہ صرف اس دنیا تک محدود ہے بلکہ آخرت میں بھی جائے گی اور اگر کہو کہ اس کی اولا د نہیں تو ہم اسے ایک ایسا بیٹا دیں گے۔ 1