خطبات محمود (جلد 2) — Page 28
دنیا کو فتح کہ لوں۔اور اس دین مسلمانوں کی فوج کی تعداد بارہ ہزار تھی جن میں کفار اور سنتے مسلمان شدہ بھی شامل تھے۔اس لئے ان میں سے بعض نے کہا کہ آج دیکھیں گے کہ کون بیمار مقابلہ میں ٹھہر سکتا ہے۔مدینہ والوں کو چونکہ وہ حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی نسبت اپنے آپ کو زیادہ بہادر اور جنگجو سمجھتے تھے اس لئے ان میں تغیر پیدا ہو گیا ہے مگر جب وہ آگے پڑھے تو دشمنوں نے اس ترکیب سے پے در پے تیر برسائے کہ ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور بھاگنے پر مجبور ہوئے ان کے گھوڑے پاک کر پیچھے کو بھا گئے اور سارے لشکر نہیں بھا گڑ مچ گئی۔اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھنے لگے تو صحابہ نے روکا مگر آپ نہ رکے۔آپ کے ایک چچازاد بھائی نے آپ کے گھوڑے کو آگے کیا۔اسی وقت آپ نے عبائش کو حکم دیا کہ عبند آواز سے کہو کہ اے انصار اللہ کا رسول تمھیں وعدہ یاد دلاتا ہے اس کو پورا کرو۔ایک صحابی کتے ہیں کہ اس وقت معلوم نہیں گھوڑوں کو کیا ہو گیا تھا ان کی ایسی حالت تھی کہ ہم ان کے لگام کھینچتے اور اس قدر کھینچتے کہ ان کا سردم تک پیچھے آجاتا۔مگر وہ واپس نہ لوٹتے اور نگام کھینچے کھینچ کر ہمارے ہاتھوں سے لہو نکل آیا۔مگر جب ہم نے عباس کی آواز سنی تو ایسا معلوم ہوا کہ گویا صور پھونکا گیا ہے اس وقت ہم نے گھوڑوں کو واپس موڑنے کے لئے بڑی کوشش ه کی اور جو نہ مڑتے ان کی تلوار سے گردن کاٹ کر نہم پیدل واپس لوٹ آئے ہیں تو ایسے وفادار اور جاں نثار آپ کے صحابہ تھے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اِنِّي مَكَانِدُ بِكُمُ الأمم میں اپنی امت کی کثرت پر قیامت کے دن فخر کر دوں گا تو ہر وہ چیز جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی کثیر ہی دی گئی اور ہر رنگ میں خدا تعالے نے آپ کو کوثر دی لیکن اس کوثر کے ماتحت دو معنی خاص طور پر ہیں ایک تو وہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہیں کہ مجھے ایک نہر دی گئی ہے جس کا نام کو شیر ہے۔دوسرے وہ جو لذت میں آئے ہیں۔گفت میں کوثر کے معنے ہیں الرجل کثیر العطاء ایسا آدمی جو بڑا سخی ہوا اور جس کو سب طرح کی غیر ملی ہو۔تو اس کے وسیع معنے تو یہ ہوئے کہ ہم نے تجھے خیر کثیر دی ہے۔اور اس کے ماتحت جنت والی نہر بھی آجاتی ہے۔اور یہ بھی کہ آپ کو ایک ایسا بیٹا اور انسان دیا گیا جو بڑا سخی ہے۔بہت سی حدیثوں میں آیا ہے کہ کفار نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتر کہا اور ان کے اس اعتراض پر یہ سورۃ نازل ہوئی۔اب اگر اس سورۃ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بیٹے کی بشارت نہیں دی گئی تو پھر اس کے معنی ہی نعوذ باللہ لغو ہو جاتے ہیں اور الٹا اعتراض ہوتا ہے کہ کہا تو یہ گیا ہے کہ اس کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔مگر جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اس کو ایک نہر