خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 356

hod روپیہ ہو تو میری عمر جوانی کی تھی ۔ بعض باتیں جائزہ ہوتی ہیں لیکن تجربہ کار آدمی منہ پر نہیں لاتا ۔ میں نے جوانی کی وجہ سے اس کا خیال نہ کیا۔ جب وہ شخص میرے پاس آیا تو میں نے اس سے دریافت کیا۔ کہ اگر تمہارے پاس اخراجات سفر نہیں تھے تو پھر تم تو پھر تم حج کے لئے کیوں آئے شریعیت کا یہ حکم ہے کہ اگر تمہارے پاس اخراجات سفر ہوں اور پھر اپنی غیر حاضری میں بال بچوں کے گزارہ کے لئے بھی تمہارے پاس یہ ہو تو حج کے لئے جاؤ۔ اس ۔ اؤ اس لئے اگر تمھا ارے پاس اخراجات سفر نہیں تھے تو کیا تھے تو پھر تم حج کے لئے آئے کیوں ؟ پھر میں نے دریافت کیا کہ کہ تم تم کام کیا کرتے ہو۔ اس نے کہا میں نائی ائی کا کا کام کام کیا کرتا ہوں میں جب حج کے لئے چلا تو میرے پاس کافی روپیہ تھا لیکن بعض مشکلات کی وجہ سے مزیدہ روپیہ کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ۔ میں نے جب دریافت کیا کہ تمہارے پاس کتنا روپیہ تھا تو اس نے کہا بمبئی سے جب میں چلا تو میرے پاس پچاس روپے تھے گویا ان دنوں جب حج پر اڑھائی تین سو روپیہ خرچ ہوتا تھا پچاس روپے کی پونجی والا حج کے لئے چل پڑا ۔ راب بارہ تیرہ سو روپیہ کے قریب حج ا پر خرچ ہوتا ہے، اب کجا پچاس روپے اور کجا اڑھائی تین سو روپے ۔ میں نے کہا کہ جب تمہار سے پاس اس قدر قلیل رستم تھی تو تو ر تم جج کے لئے کا کیوں ؟ چلے؟ تو اس نے کہا ۔ میں نے خیال کیا کہ اس قدر روپیہ میرے پاس ہے اور کچھ رستہ میں محنت کر نونگا ۔ چلو دربار محبوب کی زیارت تو کر آؤں لیکن اب واپس جانے کے لئے میرے پاس اخراجات نہیں ۔ لیکن دوسری طرف یہ حالی ہے کہ جس کے پاس ایک لاکھ روپیہ کی جائدا رہے وہ بھی حج کے لئے نہیں جاتا۔ شاید اس لئے کہ جتنی زیادہ دولت کسی کے پاس آتی ہے اس کا ایمان کمزور ہوتا جاتا ہے ۔ ایک دفعہ ایک مالدار شخص حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا اے استاد مجھے بھی اپنی شاگردی میں لے لیجئے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے دیکھا کہ اس کے کپڑے اچھے ہیں آپ نے اس کے حالات دریافت کئے۔ اس کے حالات سے معلوم ہوا کہ وہ ایک لاکھ پتی آدمی ہے حضرت مسیح علیہ السلام نے کہا۔ سوئی کے ناکہ میں سے اُونٹ کا گذر جانا ممکن ہے ۔ لیکن خدا تعالٰے کی بادشاہت میں ایک مالدار کا داخلی ہونا ممکن نہیں ہے گویا اگر کوئی بیوقون تم سے کہے کہ سوئی کے ناکے میں سے اونٹ گزر گیا۔ تو تم اس پر اعتبار کر لو لیکن اگر کوئی کہے کہ فلاں مالدار شخص خدا تعالے کی بادشاہت میں داخل ہو گیا ہے تو اس پر اعتبار نہ کر وہ حضرت مسیح علیہ السلام نے اس شخص سے کیا جاؤ تمہیں خدا تعالے کی بادشاہت میں داخل کرنا میرے بس کی بات نہیں ۔ پس جن لوگوں کی حیثیت ہوتی ہے وہ تو حج کے لئے نہیں جاتے اور جن کی تیثیت کچھ نہیں ہوتی وہ حج کے لئے جاتے ہیں اور بارہ تیرہ ہزار آدمی جو پاکستان سے حج کے لئے جاتا ہے اس میں سے در حقیقت پانچو یا ہزارہ آدمی ایسا ہوتا ہے جس پر حج فرض ہوتا ہے۔ پس وہ اندازہ جوئیں نے لگایا ہے وہ بھی