خطبات محمود (جلد 2) — Page 347
جس کے کرنے کی تو نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو توفیق دی ہم آگے بڑھ کر خنجر پر اپنی گردنیں رکھ دیں ۔ تم نماز میں یہ کہتے ہو لیکن جب چندہ کے لئے کہا جاتا ہے تو اپنی جیبیں پکڑ لیتے ہو۔ ہر نماز میں تم درود پڑھتے ہوئے یہ کہتے ہو کہ اے اللہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنی اولاد قربان کرنے کی توفیق عطا فریا اور اولاد کو قربان ہونے کی توفیق دے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو فوت ہو چکے ہیں ، اس لئے اس دعا کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ یہ چیز ہمیشہ جاری رہے۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو تو ایک بیٹے کے قربان کرنے کی توفیق ملی تھی لیکن یہاں یہ چیز ہمیشہ رہے یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ اپنے بیٹے قربان کرنے کی توفیق ملے اب بتاؤ بڑا کون ہوا ؟ وہ جس نے ایک بیٹیا ذبح کیا یا جو ہر زمانہ میں بیٹے قربان کرتا ہے۔ مگر سوچو کہ جب تم یہ کہتے ہو کہ اے اللہ ! تو مجھے ویسے ہی قربان ہونے کی توفیق عطا ذیا جیسے قربان ہونے کی توفیق تو نے حضرت اسمعیل علیہ السلام کو دی تھی۔ تو پھر تم دیانتدار ہوتے ہوئے قربانی سے بھاگ کسی طرح سکتے ہو ۔ کیا تم اپنے نفس کو اس سے مستثنیٰ کر لیتے ہو ۔ بلکہ حقیقتا دعا کرنے والا تو سب سے پہلا مخاطب ہوتا ہے پس سب سے پہلے اپنے نفس کو اس میں شریک کرنا چاہیئے ورنہ یہ ایک متسخر بن جائے گا اور کیا یہ چیز کوئی مسلمان برداشت کر سکتا ہے اور کیا کوئی مسلمان اس بات کا اقرار کرے گا ۔ کہ میں دیا کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ اسے اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمیشہ اپنے بیٹے قربان کرنے کی توفیق عطا فرما اور آپ کے بیٹوں کو بھی حضرت اسمعیل علیہ السلام کی طرح ذوق شوق سے قربان ہونے کا موقعہ دے سوائے میرے اور میرے بچوں کے کوئی احمق بھی یہ خیال نہیں کر سکتا کہ وہ یہ دعا کرتے ہوئے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس سے مستثنی قرار دے لیتا ہے ۔ کوئی بے حیا ہی ہوگا جو یہ کہے میں دعا کرتے ہوئے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو مستثنی قرار دے لیتا ہوں ۔ اگر یہ حماقت کرنے کے لئے تیار نہیں ہو تو یہ کسی طرح ہو سکتا ہے کہ تم نماز پڑھتے ہوئے تو یہ کہتے ہو کہ اسے اللہ تو مجھے اور میری اولاد کو قربان ہونے کی توفیق عطا فرما لیکن باہر جا کر کوشش کرتے ہو کہ تمہاری اور تمہاری اولاد کی جائیں بیچے جائیں ۔ عید الاضحیہ اس بات کی طرف توجہ دلانے کے لئے آتی ہے۔ خدا تعالی کہتا ہے کہ ہم سال میں یہ ایک دن لاکہ یہ واقعہ تمہارے سامنے لے آتے ہیں تا تمہیں یاد رہے کہ درود میں جو تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے لئے دعا مانگتے ہو اس میں تم بھی شریک ہو۔ یہ نہیں کہ تم دعا تو یہ کرو کہ اسے ا و کہ اسے اللہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح بیٹے قربان کرنے کی توفیق عطا فرما اور ہمیں حضرت اسمعیل علیہ السلام