خطبات محمود (جلد 2) — Page 344
۳۴۴ خدا تعالے محمد یہ بتاؤ کہ فلاں اں وقت تک خدا تعالیٰ ایسا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے چھوٹے ہیں۔ کیونکہ جب ہم کہتے ہیں ہمیں فلاں کی طرح بنا چاہیے تو اس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ وہ ہم سے بہتر ہے وہ مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے ہمیشہ دعا کرتے ہو اور قیامت تک یہ دُعا کرتے رہو گے کہ ائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسے ہی درود بھیجے جیسے اس نے حضرت ابراهیم علیه السلام پر درود بھیجا تھا ۔ اب یا تو تم یہ بتاؤ کرے اور اگر قیامت تک تم نے یہ دعا مانگنی ہے تو معلوم ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قیامت تک افضل رہیں گے ۔ لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ زبان میں کئی قسم کے الفاظ ہوتے ہیں۔ ایک الفاظ وہ ہوتے ہیں جن کے معنے معین ہوتے ہیں۔ اور ایک الفاظ وہ ہوتے ہیں جن کے معنے غیر معین ہوتے ہیں ان الفاظ سے کسی ایک معنے کی بلا قرینہ تعیین کرنا جہالت ہوتا ہے۔ جیسے کوئی کہے کہ میں رات کے وقت فلاں کے گھر گیا تو اگر کوئی اس کے یہ معنی کرتا ہے کہ وہ ضرور آج ج رات اس کے گھر گیا ہے تو یہ اس کی حماقت پر دلالت کرے گا اور لوگ کہیں گے کہ یہ تمہاری جہالت ہے ۔ اگر بولنے والے نے اپنے الفاظ کی تعیین نہیں کی تو جو معنے اس کے مد نظر ہوں وہ لے سکتا ہے ۔ یہاں بھی مشابہت کا ذکر ہے جو مبہم معنے ہیں اور ان معنوں پر دلالت کرنے کے لئے عربی زبان میں مختلف الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں ۔ اردو زبان میں اس کے لئے ایک سے زیادہ الفاظ ہیں مثلاً لفظ " کی طرح " ہے ۔ مثلاً کہتے ہیں یا اللہ ! تو اسی طرح دولت دے جس طرح تو نے قارون کو دولت دی ۔ یا آج کل کے لحافظ سے لوگ کہتے ہیں یا اللہ تو اسے اسی طرح دولت دے جس طرح تو نے راک فیلر یا روش ٹینڈ کو دولت دی۔ یا لوگ کہتے ہیں یا اللہ تو اسے اسی طرح دولت دے جس طرح تو نے مثلاً بر میکی خاندان کو دولت دی۔ اس کے معنے یہ ہیں کہ تو اسے ان کی قسم کا دولتمند بنا دے یہ معنے نہیں کہ تو اسے مقدآ میں اتنی دولت دے جتنی دولت تو نے قارون ، برمکی خاندان ، روشیلڈ یا راک فیلر کو دی لیکن اگر یہ کہا جائے کہ یا اللہ تو اسے اس قدر دولت دے جس قدر دولت تو نے قار تو کودی برمکی خاندان کو دی یا راک فیلر اور روشیلڈ کو دی ۔ تو اس کے معنے درجہ کے ہونگے اگر درود میں کمَا صَلَّيْتَ کی بجائے إلى قدر ما صلیت کہا جاتا کہ تو محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وس وسلم پر اس درجہ کا درود بھیج جیس میں درجہ کا درود تو نے ابراہیم علیہ السلام پر بھیجا۔ تو معلوم ہوتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شان سے کم ہے مگر یہاں درجہ کا ذکر نہیں ، قسم کا ذکر ہے ۔ ایک کنگال آدمی بھی بعض دفعہ کردیتا ہے کہ میرے پاس روپیہ ہے اور وہ روپیہ نکال دیتا ہے ۔ مثلاً فرمن کہ وہ ایک کنگال آدمی