خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 27

۲۷ اس کا مقابلہ وہ کتا بیں بھی نہیں کر سکتیں جو الہامی کہلاتی ہیں۔ پھر انسانوں کی بنائی ہوئی کتابوں نے کیا کرنا ہے جس طرح سورج - طرح سورج کے پڑھنے سے تمام دیئے گل ہو جاتے ہیں اسی طرح قرآن کریم کے نازل ہونے پر باقی تمام کتابیں بے نور ہوگئیں ۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو روحانی درجہ حاصل ہوا ۔ وہ بھی خیر کثیر کا نمونہ تھا ۔ پھر آپ کو جو اخلاق عطا کئے گئے وہ بھی ایسے تھے کہ جن کا نمونہ ملنا محال ہے۔ پھر جو صحابہ ملے وہ بھی ایسے کہ جن کا نمونہ صفحۂ عالم سے ناپید ہے۔ کوئی قوم ان کے مقابلہ پہ نہ ٹھہر سکی۔ انہوں نے اطاعت کی تو ایسی کہ کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس کی جماعت نے ان حبیبی اطاعت کی ہو ۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے کہ کسی کو علم دیا بیٹھ جاؤ۔ ایک صحابی نے آپ کی یہ آواز گلی میں سنی اور وہیں بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے ہی مسجد تک گئے کسی نے کہا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تو حکم نہیں دیا تھا کہ تم گلی میں ہی بیٹھے گئے ہو۔ 1۔۔ تے ہو ۔ انہوں نے کہا۔ کیا معلوم ہے مسجد تک جاتے ہوئے جان نکل جائے اور آئن در آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا یہ حکم بجالانے کا موقعہ نہ ملے لیے پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے معاہد کیا عله ہوا تھا کہ اگر کوئی مدینہ پر گلہ کرتے تو تم ہماری نو تم ہماری مدد کرنا ، ہمارے ساتھ ہو ہو کر لڑنا لیکن اگر میں باہر جا کر حملہ کرنا پڑے تو تم نہ جانا ۔ اس معاہدہ کے بعد کفارہ کی شرارتوں کی وجہ سے ضروری ہوا کہ آگے بڑھ کر ان پر حملہ کیا جائے ۔ اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو جلایا اور که با که سهم با ہر دشمن پر حملہ کرنے چلے ہیں آپ لوگوں کی مرضی ہے تو چلو ۔ در نہ تم نہ جانے کی وجہ سے قطعا نہ خدا کے نہ اس کے رسولی کے گناہ گار ہو گئے ۔ اس وقت انصار میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم لوگ موٹے کی امت کی طرح نہیں ہیں کہ آپ کو کہدیں۔ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا فَاعِدُون کر جا تو اور تیرا رب جا کر لڑتے پھر وہم تو یہ بیٹھتے ہیں ۔ ہم نے آپ کو خدا کا سچا رسول سمجھ کر قبول کیا ہے ۔ پھر وہ معاہدہ کیسا ہوا کہ آپ لڑنے جائیں اور ہم گھر بیٹھے رہیں ۔ ہم آپ کے ساتھ چلیں گے ۔ اور اگر آپ سمندر میں کو پڑنے کا حکم دیں گے تو اس میں گھوڑے ڈال دیں گے اور آپ تک کوئی دشمن اس وقت تک نہیں پہنچ سکی گا جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ جائے گا یہ ایک ایسے صحابی جو سولہ غزوات میں شریک ہوئے وہ ایک مجلس میں اس صحابی کی یہ کلام بیان کر کے کہتے ہیں کہ کاش میں سولہ غزوات میں شامل نہ ہوا ہوتا مگر یہ انہ ہوا ہوتا مگر یہ بات میرے منہ سے سے مکلی ہوتی ہے پھر غزوہ حنین میں جب نبو ثقیفہ اور ہوازان سے مقابلہ ہوا۔ اور بعض نو مسلموں یا کفار کے تکبیر کی وجہ سے کہ وہ بھی مسلمانوں کے ساتھ شامل تھے مسلمانوں کو بھا گنا پڑا۔ چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میرے ساتھ بارہ ہزار سلمان شامل ہو جائیں تو یکی ساری