خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 337 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 337

সল آپ کا چہرہ روشن تھا ، آپ پگڑی پہنے ہوئے تھے کوٹ پہنا ہوا تھا۔ بالکل ایسا کوٹ جیسا آپ اپنی زندگی میں پہنا کرتے تھے اور آپ چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے میں نے السلام السلام علیکم کیا۔ آپ نے جواب دیا اور و علیکم السلام فرمایا مجھے خیال آیا کہ ذرا اور آ لہ ذرا اور آگے جاؤں وہاں اور لوگ بھی میٹھے ہیں۔ میں ایک دو قدم ہی آگے چلا تھا کہ میں نے دیکھا وہاں لوہے کا ایک چنگ رکھا ہوا ہے۔ یہ پلنگ اسی طرف پڑا ہے جس طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام چار پائی پر بیٹھے ہوتے ہیں ۔ یہ پلنگ عام ملنگوں سے اونچا ہے اور چوڑا بھی ہے اور تار کے ساتھ بنا ہوا ہے ۔ اس پلنگ پر میاں مان محمد صاحب جو قادیان کے رہنے والے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے خاندان کا کام کرنے والے حجام خاندان میں سے ہیں۔ اور قادیان میں پوسٹ مکینی کا کام کرتے تھے تشہد کی حالت میں نماز پڑھ رہے ہیں ان کے بیٹے تجارت کا کام کرتے ہیں اور ان کے بھتیجے میاں محمد عبد اللہ صاحب ربوہ میں حجام کا کام کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ میاں جان محمد صاحب تشہد کی حالت میں نماز پڑھ رہے ہیں مجھے خیال آتا ہے کہ وہ بیمار ہیں اس لئے بیٹھ کر نماز پڑھ رہے ہیں۔ میرے پاس سے گزیتے ہوئے انہوں نے سلام پھیرا اور میں آگے چلا گیا ۔ میرا خیال ہے کہ میں آگے جس جگہ جانا چاہتا ہوں وہ کچھ فاصلہ پر ہے ۔ وہ فاصلہ میلوں کا نہیں وہ فاصلہ فرلائنوں کا نہیں بلکہ یہی نہیں تیس گز کا ہے میں آگے چلا تو میں نے دیکھا کہ پاس ہی ایک کھلی جگہ ہے اور اس میں کرسیاں رکھی ہوئی ہیں ۔ ان کو سیوں پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو ملنے سلام کے لئے آئے ہیں۔ میرے ذہن میں آتا ہے ۔ کہ میں اسی جگہ کی طرف آرہا تھا ۔ ان میں ایک نوجوان بھی ہے جس کی داڑھی منڈھی ہوتی ہے یا اس کی داڑھی ابھی نکلی ہی نہیں لیکن اس کی شکل ایسی ہے جیسے غیر احمدی نوجوانوں یا کمزور احمدیوں کی ہوتی ہے۔ اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ حضرت سیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی جوتا پہن کو میرے پیچھے چل پڑے ہیں جب آپ میرے قریب آئے تو آپ نے زور سے کچھ الفاظ دہرانے شروع کئے جو اس قسم کے تھے کہ کیا کا ہو مل گیا بتھوا مل گیا اور ایک تیسری چیز کا نام نام بھی لیا جو یا جو یاد نہیں رہا ۔ آپ کے ان الفاظ کے جواب میں اس داڑھی منڈ سے شخص نے جسے اب میں کوئی طبیب خیال کرتا ہوں کہا کہ کا ہو مل گیا اور ایک اور چیز کے بارہ میں کہا کہ وہ مل گئی ہے اور تیسری شے کے متعلق کیا اس کی تلاش ہے۔ مجھے کا ہو اور پنجوا کا نام یا د رہا ہے۔ تیسری چیز بھول گیا ہوں شاید وہ کا سنی ہے یا کوئی اور چیز مجھے اب یاد نہیں رہا۔ مجھے چونکہ اس وقت بہت خوشی تھی کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کو دیکھا ہے اس لئے اس خوشی سے آنکھ کھل گئی اور خواب پوری طرح یاد نه به نامه به خواب ایسا واصبح تھا کہ اب بھی جب میں اس خواب کو بیان کر رہا ہوں آپ کی شکل میرے سامنے پھر رہی ہے۔