خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 331

۳۳۱ چکے ہیں۔ ساٹھ سال کا عرصہ کوئی معمولی عرصہ نہیں ہوتا۔ پس ہمیں سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیئے کہ اتنے لمبے عرصہ میں ہم نے دنیا پر روحانی لحاظ سے غالب آنے کے لئے کیا کیا ہے ۔ بے شک خدا تعالے کا یہ وعدہ ہے کہ وہ ہماری جماعت کے جماعت کو غالب کرے گا مگر کبھی نہیں ہوا کہ خدا تعالے کسی دینی اور روحانی جماعت کو اشاعت دین کے لئے متواتر جد و جہد اور قربانیوں کے بغیر غلبہ عطا کر دے ۔ پس میں جماعت کو ایک دفعہ پھر ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں ۔ خصوصا یہ عید کا دن ایسا ہے جس میں ہمیں وہ وعدہ یاد دلایا گیا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے کیا تھا کہ میں تیری اولاد کو دنیا کے کناروں تک پھیلاؤں گا۔ ہم اس پیشگوئی کی یاد میں یہ دن مناتے ہیں۔ مگر تعجب ہے ہم دنیا کے ایک کونے میں میٹھے ہیں اور عید اس بات کی منا ر ہے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد کو ساری دنیا میں پھیلا دیا ۔ اگر یہ سچی بات ہے تو تم ہی حق پر ہو ، اگر یہ سچی بات ہے کہ خدا تعالے کے دین کو ماننے کی تمھیں ہی توفیق ملی ہے تو تمھیں سوچنا چا ہیے کہ تم کسی طرح خوش ہو کہ یہ کہ سکتے ہو کہ خدا تا نے ابراہیم علیہ السلام کی پیشگوئی پوری کردی ۔ اگر تم دنیا کے ایک کونے میں بیٹھے ہو تو خدا تعالیٰ نے ابر استیم کی پیشگوئی پوری نہیں کی بلکہ اس کے پورے ہوتے ہوتے اس میں روک پیدا کر دی اور یا پھر تمھیں ماننا پڑے گا کہ تمہارے علاوہ بھی کچھ جماعتیں ایسی ہیں جو خدا تعالے سے تعلق رکھتی ہیں اور چونکہ وہ دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں اس لئے ابراہیم کی پیشگوئی پوری ہو رہی ہے۔ ایک طرف تمہارا یہ دعونی کرنا کہ خدا تعالی کی رضا تم سے وابستہ ہے اور دوسری طرف تمہارا ابراہیم کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر خوش ہونا حالانکہ تم دنیا کے ایک کونے میں سمیٹے بیٹھے ہو آپس میں کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔ جب قانونی طور پر بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ کی رضا اسی صورت میں حاصل ہو سکتی ہے جب وہ احمدی جماعت میں داخل ہو جائیں تو ابراہیم کی پیشگوئی بھی اسی صورت میں پوری ہو سکتی ہے جب تم دنیا کے کونے کونے میں پھیل جاؤ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیے یہ اختیار رکھتا ہے کہ وہ جس کو چاہے بخش دے مگر یہ استثناء ہے اور استثناء اور قانون میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایک شخص اگر اپنے دوستوں کی دعوت کرتا ہے تو بعض دفعہ وہ کسی فقیر کو بھی کھانا کھلا دیا ہے ۔ مگر اس کا فقیر کو کھانا کھلانا ایک استثنائی رنگ رکھتا ہے ۔ اسی طرح ہم یہ نہیں کہتے کہ خدا تعالے کسی اور کو بخش نہیں سکتا ۔ وہ استثنائی طور پر جس کو چاہیے بخش دے مگر قانونی طور پر صرف خدائی جماعتوں کا ہی یہ دعوی ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ شامل ہونے سے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو سکتی ہے ۔ اگر کسی اور کو رضا حاصل ہوتی ہے تو وہ غیر قانونی اور استثنائی رنگ