خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 330

٣٣٠ روکتے کیوں نہیں۔ ان کے پاس جتنا روپیہ آتا ہے اس کا اکثر حصہ تقسیم کر دیتی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب یہ بات سنی تو آپ نے فرمایا اس بھانجے کو آئندہ میرے گھر میں آنے کی اجازت نہیں ہوگی اور لیکن اسے معاف نہیں کروں گی، اگر کروں تو مجھ پر صدقہ لازم ہوگا۔ چنانچہ آپ نے اپنے بھانجے کو اپنے گھر آنے جانے میں منع کر دیا۔ صحابہ نے جب یہ بات دیکھی تو انہوں نے سمجھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خاندان میں ایسا اختلاف پسندیدہ نہیں خصوصا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایسی مقبول اور محبوب بیوی کا اپنے بھانجے پر ناراض ہونا اچھا نہیں اور انہوں نے تجویزہ کی کہ کسی طرح حضرت عائشہ سے ان کے بھانجے کو معافی دلوائی جائے چنانچہ ایک دن انہوں نے عبیداللہ کو اپنے ساتھ لیا۔ اور حضرت عائشہ کے دروازہ پر پر جا کر کہا کہ حضور ہم نے ایک بات کہنی ہے ، اگر اجازت ہو تو ہم سب اندر آجائیں۔ حضرت عائشہ نے پردہ بھیجوا دیا ۔ اس زمانہ میں علیحدہ علیحدہ کمرے تو ہوتے نہیں تھے صحن میں پردہ لٹکا دیا جاتا تھا۔ جس کے ایک طرف مرد بیٹھ جاتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی پردہ لٹکا دیا ، خود ایک طرف ہو گئیں۔ اور انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی جب وہ اندر گئے تو عبید اللہ کو بھی اپنے ساتھ لے گئے کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دیتے قفت کسی خاص شخص کا نام نہیں لیا تھا، یہی کہا تھا کہ سب آجائیں ۔ انہوں نے عبید اللہ کو پہلے سمجھا رکھا تھا کہ جب ہم تجھے اندر پہنچا دیں تو پردہ اُٹھا کر خالہ سے چمٹ جانا اور کہنا کہ مجھے معاف کر دو۔ جب صحابہ پر وہ کے ایک طرف بیٹھ گئے تو عبید اللہ نے دوڑ کر پردہ اٹھایا اور خالہ سے چمٹ گئے اور کہنے لگے خالہ مجھے معاف کر دیں مجھ سے سخت غلطی ہوئی ہے۔ ادھر سے صحابہ نے بھی سفارش کر دی کہ بچہ تھا اس سے غلطی ہو گئی ہے۔ آپ اسے معاف فرما دیں چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے معاف اف فرمادیا۔ مگر اس کے بعد آپ کے پاس جو چیز بھی آتی آپ 1- اسے صدقہ کے طور پر دیدیا کرتی تھیں ۔ ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کرتی ہیں تو آپ نے فرمایا ۔ میں نے یہ حمد کیا تھا کہ اگر میں اپنے بھانجے کو معاف کروں گی تو کچھ صدقہ کروں گی۔ میں ڈرتی ہوں کہ اگر میں تھوڑا صدقہ کروں تو شاید وہ کچھ کی مقدار تک نہ پہنچے اور اللہ تعالے مجھ کرنا الے مجھ پر ناراض ہو۔ اس لئے میرے پاس جو چیز بھی آتی ہے ، میں صدقہ دے دیتی ہوں ۔ اس طرح آپ نے اپنے بھانجے کو معاف بھی کر دیا اور صدقہ اس سے بھی زیادہ دینا شروع کر دیا جتنا وہ پہلے دیا کرتی تھیں۔ کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ جب خدا نے مجھے اور میرے بھانجے کو ملا دیا ہے تو اب میرا فرض ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے اس احسان کے شکر میں پہلے سے بھی زیادہ صدقہ دوں ۔ گویا جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا وہی حضرت عائشہ نے کیا۔ مگر اس وقت جب ان کی معرفت زیادہ ترقی کر گئی۔ دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اب ہماری جماعت کو قائم ہوتے ساٹھ سال گزر لله