خطبات محمود (جلد 2) — Page 323
أم لا کوان اور کم آبادی والی جگہ میں نازل ہوا ۔ اور ایک ایسے شخص پر نازل ہوا جو اپنی قوم اور ملک سے نکال دیا گیا تھا جس کی ساری مالی حیثیت چند گائے اور بکریاں تھیں۔ اور افراد کے لحاظ سے اس کا خاندان اسکے ایک بھتیجے کو ملا کہ پندرہ میں افراد پر مشتمل تھا ۔ وہ جب اکلوتے بیٹے کو ذبح کرنے پر تیار ہوا تو خدا تعالے نے کہا۔ میں تیری اولاد کو دنیا کے کناروں تک پھیلاؤں گا۔ اور تیری نسل کو اس قدر ترقی دوں گا کہ ستارے گئے جا سکیں گے مگر تیری اولاد نہیں گئی جاسکے گی۔ یہ بات حضرت اسمعیل علیہ السلام کے متعلق ہی کی گئی تھی جس کی نسل کے پھیلنے کے ذرائع موجود نہیں تھے حضرت اسحق علیہ السلام کی نسل بھی دنیا میں پھیلی لیکن ان کے پاس طاقت تھی جس کے زور پر وہ پھیلی ۔ یہودیوں کو ابتدا ر میں ہی حکومت مل گئی تھی لیکن حضرت اسمعیل علیہ السلام کی نسل ۔ غرب میں ہی محدود رہی اور تہذیب اور ان قوتوں سے جن سے قومیں ترقی کیا کرتی ہیں منقطع رہی۔ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بنی اسمعیل میں پھر دینی روح پیدا ہوئی ۔ وہ دنیوی طاقت کی وجہ سے نہیں ، دینی طاقت کے زور پر دنیا میں پھیلے ۔ جہاں جہاں بنی اسرائیل پھیلے ہیں ، دنیوی طاقت کے زور سے پھیلے ہیں اور ان کا پھیلنا نسلی لحاظ سے پھیلنا کہلا سکتا ہے۔ لیکن یہ پھیلنا کوئی پھیلنا نہیں کیونکہ آخر ہر قوم کے بیٹے ہوتے ہیں ۔ اور وہ کچھ کچھ پھیلتی ہے۔ ہاں غیر قوم کے بیٹوں کو چھین کر لے آنا اور اپنی نسل بنا لینا ایک نشان ہوتا ہے ۔ اس لئے یہ پشگونی بنی اسخن کے حق میں پوری نہیں ہوتی کیونکہ و نسلی لحاظ سے پھیلے ہیں لیکن اس کے مقابل پر بنی اسٹیل بھی دنیا میں پھیلے ہیں مگر انہوں نے جو ترقی کی ہے وہ اس طرح کی ہے کہ ان میں سے زیادہ تعداد دو سروں کے گھروں سے چھین کر لائی گئی ہے۔ کر لائی گئی ہے۔ ہم مغل میں کیا ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صلبی اولاد ہیں ؟ ہم جب اپنے بزرگوں با تو خان اور قبلائی خان کے نام لیتے ہیں توان کے لے کچھ نہ کچھ اعزاز کا ہے اسے اندر ضرور پیدا ہوتا ہے کیونکہ انہوں نے اچھی حکومتیں کی ہیں لیکن چنگیر خان اور بل کو تا ہے جذبہ ہمارے وغیرہ کا نام آنے پر جذبہ نفرت پیدا ہوتا ہے حالانکہ وہ بھی ہماری قوم سے تعلق رکھتے تھے مگے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذکر پر جو جذبہ اکرام پیدا ہوتا ہے اور آپ کے ذکر سے جو گد گدی ہمار دلوں میں ہوتی ہے وہ اپنے آباء و اجداد کے ذکر پر نہیں ہوتی ۔ یہیں روحانی طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ہم اتفاقی طور پر مغلوں کے ہاں پیدا ہو گئے ہیں ورنہ ہم ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد مغل ہیں چرا کر لے گئے تھے۔ اسی طرح ہر قوم کا مسلمان خواہ وہ جاٹ ہو یا راجپوت مغل ہو یا پٹھان یورپین ہو یا ایرا ایرانی بلکہ خواہ وہ یہودیوں میں سے ہی کیوں نہ آیا ہو۔ سے اپنے آباء و اجداد کے ذکر پر وہ جوش نہیں آتا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور محمد رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذکر پر آتا ہے ۔ پس در حقیقت یہ کہنا چاہئیے کہ حضرت اسماعیل کی نسل ہلاکو