خطبات محمود (جلد 2) — Page 309
6۔4 اور غائب غلہ کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ بے شک بعض جگہیں ایسی بھی ہوتی ہیں جہاں حاضر چیز کیا غائب چیزوں سے زیادہ اہم ہوتی ہیں۔ لیکن ایسے بھی مواقع ہوتے ہیں جہاں نائب چیز حاضر چیز سے زیادہ بہتر ہوتی ہے ۔ ایک شخص جھوٹ بول کو اپنی جان بچا لیتا ہے۔ جھوٹ بول کر اپنی جان بچا لینا ایک حاضر فائدہ ہے۔ اور سچ بولکر اللہ تعالٰے کی رضا کا حاصل ہونا ایک نمائی فائدہ ہے مگر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ حاضر چیز نمائب سے زیادہ بہتر ہے یا ایک چور چوری کر کے اپنے لئے روٹی کا سامان مہیا کرتا ہے ۔ اب اس کا دیانت پر عمل کر کے اس دنیا کی آئندہ زندگی یا اگلے جہاں کی زندگی میں فائدہ حاصل کرنا ایک غائب چیز ہے اور روٹی کا مل جانا ایک حاضر چیز ہے مگر کوئی نہیں کہتا کہ یہ حاضر چیز غائب چیز سے اچھی ہے تو بعض چیزیں غائب ہوتی ہیں مگر وہ حاضر کی نسبت اچھی ہوتی ہیں۔ اور اپنی چیزوں میں سے ایک اولاد کی قربانی ہے جس کا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہمیں نمونہ دیکھایا ۔ آپ کا اپنی اولا کو وادی غیر ذی زرع میں رکھنا اور عملی طور پر چھری لے کہ اپنے بچے کو قربان کرنے کے لئے کھڑے ہو جانا یہ دو باتیں تھیں جو حضرت ابراہیم ابراہیم علیہ السلام نے کیں۔ خدا تعالے کا نشاء یہی تھا کہ وہ وادی غیر ذی زرع میں جا کہ اپنے بچے کو چھوڑ آئیں اور خدا تعالے کے ذکر اور اس کے کلمہ کے اعلاء کے لئے اسے وقف کر دیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں نظارہ یہ دکھایا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالے جانتا تھا۔ کہ اگر خواب میں میں نے ابر اسٹیم کو یہ نظارہ دکھایا کہ وہ اپنے بیٹے کو قربان کر رہا ہے تو وہ واقعہ میں اپنے بیٹے کو ظاہری رنگ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے گا۔ اور چونکہ اللہ تعالے ابراہیم کے ذریعہ آئندہ انسانی جان کی قربانی کو ہمیشہ کے لئے ممنوع قرار دینا چاہتا تھا اس لئے اس نے بجائے یہ کہنے کے کہ اسے ابراہیم جا اور اپنے بچے کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑ آ، یہ نظارہ دکھایا کہ وہ اپنے بچے کو قربان کر رہے ہیں ۔ تا کہ جب وہ اپنے بچے کو قربان کرنے لگیں انہیں روک کر ہمیشہ کے لئے انسانی قربانی کو ممنوعہ قرار دے دیا جائے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ویسے ہی کیا۔ انہوں نے چھری پکڑی اور اپنے بچے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو گئے ۔ جب وہ اس فعل پر کلی طور پر تیار ہو گئے تو خدا تعالیٰ نے انہیں روک دیا اور فرمایا آئندہ خدائی سلسلوں میں انسان کی قربانی قبول نہیں کی جائے گی ، تم اس کی بجائے بکرا ذبح کر دی ہے اس طرح انسانی کی قربانی بھی بند ہو گئی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا امتحان بھی ہو گیا اور حضرت معیل علیہ السلام کو ایک دادی خیر ذی زرع میں چھوڑنے کے نتیجہ میں ان کا رڈیا بھی پورا ہو گیا بہر حال اللہ تعالے نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کی یادگار ہیں کہ وہ اپنے بیٹے کو خدا تعالی