خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 302

۳۰۲ چیز کی پرواہ نہ کرتے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق احمد کی جنگ میں جب عورتیں گھبرا کر یہ خبر شہور ہوئی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں تو اس خبر کے سنتے ہی مدینہ کی عورتیں گی اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں ۔ اور بعض تو اس اضطراب اور پریشانی میں آمد تک جانچیں جو مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلہ پر ہے جب مسلمان عورتیں گھبراہٹ اور اضطراب کے عالم میں اُحد کی طرف جا رہی تھیں تو انہیں راستہ میں بعض مسلمان سپاہی ملے جو واپس مدینہ جا رہے تھے۔ ان میں سے ایک عورت آگے بڑھی اور اس نے ایک مسلمان سپاہی سے پوچھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے۔ چونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلامت دیکھ چکا تھا اور اس کا دل مطمئن تھا۔ اس نے بجائے یہ جواب دینے کے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیریت کے ساتھ ہیں ۔ اس عورت کو یہ جواب دیا کہ بی بی مجھے بڑا افسوس ہے تمہارا والد اس جنگ میں شہید ہو گیا ہے۔ اس نے کہا۔ میں تم سے اپنے والد کا حال دریافت نہیں کر رہی۔ میں تم سے یہ پوچھتی ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے ۔ اس نے پھر اصل بات کا کوئی جواب نہ دیا اور کہا بی بی تمہارا خاوند بھی شہید ہو گیا ہے اس عورت نے پھر کھا ئیں تم سے اپنے خاوند کے متعلق بھی نہیں پوچھ رہی تیم مجھے یہ بتاؤ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کیا حال ہے ۔ اس نے ہے۔ اس نے کہا بی بی تمہارا بیٹا بھی شہید ہو گیا ہے اس پر پھر اس نے کہا میں نے تم سے اپنے بیٹے کے متعلق بھی سوال نہیں کیا میں تم سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حال دریافت کر رہی ہوں اور غصہ سے کہا کہ میں تم سے اپنے رشتہ داروں کے متعلق سوال نہیں کر رہی۔ تم مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حال بتاؤ ۔ اس نے کہا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو خیریت سے ہیں جب عورت نے یہ سنا تو اس نے کیا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیریت سے ہیں تو پھر مجھے کسی کی موت کی پرواہ نہیں۔ اس کے بعد اس عورت نے کیا۔ گو تم نے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ و ہو و آلہ وسلم کی خبر سنادی ہے مگر مجھے تسلی نہیں ہو گی جب تک یکیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں ۔ اس نے بتایا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فلاں جگہ کھڑے ہیں۔ وہ عورت دوڑی ہوئی وہاں گئی وہ منہ سے کہتی جاتی تھی کہ یا رسول اللہ ! آپ نے یہ کیا کیا یعنی زخمی ہو کر گرے اور آپ کی شہادت کی خبر مشہور ہوئی اور ہم لوگوں کو اتنا دکھ پہنچا ہے اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو دیوانہ وار دوڑی ہوئی آپ کے پاس پہنچی اور محبت کے جذبہ سے سرشار ہو کہ اس نے جھک کر آپکے کرتے کا دامن چونا ۔ اُسے اپنی آنکھوں سے لگایا۔ اور پھر کہا یا رسول اللہ ! لوگ مجھے کہتے ہیں کہ تیرا خاوند مارا گیا ہے ۔