خطبات محمود (جلد 2) — Page 301
یں نے سوچا کہ ممکن ہے آپ پر اس وقت کوئی مصیبت آئی ہوئی ہوا وا۔آپ مدد کے لئے میرے پاس آتے ہوں اس خیال کے آنے پر میں نے تلوار اٹھا لی کیونکہ یہی اک چیز ہے جس سے ہیں آپ کی مدد کر سکتا تھا۔پھر مجھے خیال آیا کہ گو آپ کر دو رہتی ہیں کیا تبھی کر دو پتیوں پرھی ایسی مصیبت آجاتی ہے کہ وہ پیسہ پیسہ کے محتاج ہو جاتے ہیں۔رجیسے مشرقی پنجاب میں کئی مسلمان کر دیتی تھے مگر آج وہ بالکل کنگال ہیں۔میں نے ساری عمر پیسہ پیسہ جمع کر کے چار پانچ سو روپیہ اکٹھا کیا تھا اور اسے زمین میں دبا رکھا تھا۔اس خیال کے آنے پر میں نے زمین کھودنی شروع کر دی اور وہ تھیلی نکال لی اس لئے مجھے باہر آنے میں دیر ہو گئی ہے اس کے بعد مجھے خیال آیا کہ ممکن ہے آپ کے گھر والے بیمار ہوں اور ان کی تیمار داری کے لئے کسی کی مدد کی ضرورت ہو۔چنانچہ میں نے اپنی بیوی کو جگایا اور اسے بھی اپنے ساتھ لے لیا۔اب یہ تینوں چیزیں حاضر ہیں ، بتائیے آپ کو کیا کام ہے۔باپ نے اپنے بیٹے سے کہا۔دیکھا ! اس قسم کے دوست ہوا کرتے ہیں ہے۔یہ مثال اپنے اندر یہ سبق رکھتی ہے کہ اگر انسانوں کے دوست اس قسم کے ہوسکتے ہیں تو خدا تعالے کے دوست کو کیسا ہونا چاہیئے اور اسے خدا تعالے کی رضا اور اس کی خوشنودی کو کس طرح مد نظر رکھنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔انسان اگر سچا مومن ہو تو اسے ہر وقت خدا تعالے پر نظر رکھنی چاہیئے۔اور یہ دیکھنا چاہیئے کہ میرا خدا کد ھر دیکھ رہا ہے۔پھر جس چیز میں خدا کی رضا ہو اسی چیز کو قبول کرنا چاہیئے اور خوشی اور بشاشت کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔مسلمانوں کو بھی چاہئیے کہ بہت بڑی مصیبت پر جو ان دنوں ان پر وارد ہوئی ہے سجائے اس کے کہ وہ روئیں اور ہمت ہار کر بیٹھے جائیں ، اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو خوشی سے قبول کریں اور مصائب کو ہمت اور استقلال کے ساتھ برداشت کرنے کی عادت ڈالیں۔مجھے افسوس ہے کہ باہر سے جو ریفیوجی ( REFUGEE) آرہے ہیں وہ کوئی اچھا نمونہ نہیں دکھا رہے۔بلکہ ہماری جماعت کے بعض دوستوں میں بھی یہ نقص پایا جاتا ہے کہ وہ پہلے ایک گاؤں میں جاتے ہیں اور جب انہیں وہاں دانہ وغیرہ مل جاتا ہے تو اس گاؤں سے دوسرے گاؤں چلے جاتے ہیں اور یہ عذر کر دیتے ہیں کہ وہاں زمین اچھی نہیں ہمیں کسی اور جگہ بھیجا جائے۔دراصل انہیں بینکار میٹھکر روٹی کھانے کی عادت پڑگئی ہے۔اور دوسری طرف چونکہ ان کی اپنی جائدادیں ضائع ہو گئی ہیں ان کے نفس میں بے اطمینانی پائی جاتی ہے اور وہ کسی جگہ استقلال کے ساتھ بیٹھ کر کام نہیں کر سکتے۔حالانکہ اگر وہ اپنے خدا پرسیجا ایمان رکھنے تو ان مصائب میں بھی ایک لذت محسوس کرتے اور خدا تعالے کے مقابلہ میں خون کی کسی