خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 285

۲۸۵ مگر مالی قربانی نہیں کر سکتے اس لئے اللہ تعالے نے حکم دیا کہ مینڈھے کی قربانی کیا کرو تاکہ تمہاری مالی قربانی کا بھی امتحان ہو جائے۔ کسی شاعر نے اس کی مثال دیتے ہوئے فارسی میں یہ شعر کہا ہے ہے گر جان طلبی مضائقہ نیست یعنی اگر جان مانگو تو کوئی حرج نہیں لیکن دوسرے مصرعہ میں کہتا ہے۔ گر زر طلبی سخن درین است اگر روپیہ مانگو تو اس میں مجھے اعتراض ہے بظاہر تو یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ ایک شخص اپنی جان دینے کو بخوشی تیار ہو جائے مگر وہ روپیہ نہ دے لیکن دنیا میں بہت سے ایسے سے ایسے دور بھی آتے ہیں جب لوگوں کی ذہنتیں یہ شکل اختیار کر لوں میں۔ چنانچہ آجکل کے غیر احمد یوں پر بھی یہ دور آیا ہوا ہے۔ دیکھو کس طرح ہندوستان میں ہزاروں ہزار مسلمان مارے جا رہے ہیں۔ یوں تو ہمار احمدیوں کے بھی زخمی ہونے کی خبر آئی ہے گو کسی کے مارے جانے کی خبر نہیں آئی ۔ اس کے علاوہ احمد یول بول کی کئی عمارتیں جلا جلا دی دی گئی گئی ہیں کیے۔ حالانکہ جھگڑا ا ہندوؤں ہندوؤں اور اور و دوسرے مسلمانوں کے کے درمیان د تھا۔ لیکن جہاں تک عام مسلمانوں کا سوالی ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ مہندو ان صوبوں میں کہ جہاں ہندو اکثریت ہے بے رحمی سے مسلمانوں کو مار رہے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں میں بھی جانی قربانی کا جذبہ تو پایا جاتا ہے خواہ وہ لغو ہی کیوں نہ ہو اور خواہ وہ فضول ہی کیوں نہ ہو مگر جذ به ضرور موجود ہے ۔ چنانچہ اس جذبہ نے نواکھالی اور ملتان را ولپنڈی میں نہایت افسوسناک صورت اختیار کرلی لیکن ایسے واقعات پڑھ کر کہ فلاں صوبہ کے مسلمانوں کو ہنڈوں نے گاجر مولی کی طرح کاٹ کاٹ کر پھینک دیا۔ حیرت آتی ہے کہ مسلمان کیوں ان جانوں کو بچانے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ تھوڑی سی کوشش کر کے ان کو بچایا جاسکتا ہے اور وہ اس طرح که مسلمان روپیہ خرچ کرنے سے دریغ نہ کریں اور پورے طور پر منتظم ہو جائیں تب یہ جانی قربانی مٹائی جا سکتی ہے ورنہ اس کے علاوہ اور کوئی صورت مسلمانوں کے بیچنے کی دکھائی نہیں دیتی۔ مگر مسلمان ان تمام تفکرات سے بالکل آزاد نظر آ رہے ہیں اور باوجود اس نازک زمانہ کے پھر بھی وہ خواب خرگوش سے بیدار نہیں ہوتے ۔ حالانکہ موجودہ حالات جھنجوڑ جھنجور کو مسلمانوں کو بیدار کر رہے ہیں مگر وہ ہیں کہ کروٹ ہی نہیں لیتے ۔ جب تک مسلمان اس طرح غافل پڑے رہیں گے جب تک مسلمان اپنے آپ کو منظم نہیں کریں گے جب گے جب تک مسلمان مسلمان اپنے اپنے بالوں کو غیر اقوام سے بھی بڑھ چڑھ کر قربان نہ کریں گے وہ کبھی چین اور سکھ کی زندگی بسر نہیں کر سکتے اس وقت جانی قربانی اتنی اہمیت نہیں رکھتی جتنی مالی قربانی۔ مگر افسوس کہ مسلمانوں کا ہاتھ اپنی جیبوں یہ شعر قالب شاہ عالم کا ہے۔ مولانامحمد حسین آزاد نے میں اپنی مشہور کتاب آب حیات کے مشت میں شعر کو درج کیا ہے۔ امریب