خطبات محمود (جلد 2) — Page 283
۲۸۳ ۳۵ ن و فرموده در نومبر 2 بمقام باغ مصر ام المنان قادیان اور انسان کی زندگی پر مختلف مواقع آتے ہیں کبھی اسے بڑی باتیں ضرور تا کہنی پڑتی ہیں کبھی اسے چھوٹی باتیں ضرور تا کہنی پڑتی ہیں۔ کبھی وہ چھوٹی بات کہتا ہے جو بظاہر بڑی نہیں ہوتی مگر حقیقتاً بڑی ہوتی ہے اور کبھی وہ چھوٹی بات اس لئے کہتا ہے کہ کئی چھوٹی باتیں کہنی بھی ضروری ہوتی ہیں۔ آج کی عید جو عید الاضحیہ کہلاتی ہے یہ وہ عید ہے جو حضرت ابراهیم علیه السلام اور ان کے لڑکے حضرت اسمعیل علیہ السلام کی قربانی کی یادگار کے طور پر اسلام میں منائی جاتی ہے ۔ یہ وہ عید ہے جو ہر سچے مسلمان سے یہ اقرار لیتی اور اس سے یہ حمد کراتی ہے کہ اس کی زندگی اس کی جان اور اس کا مال صرف اللہ تعالے ہی کے لئے ہے اور وہ ہر وقت اپنی جان اور اپنے مال کو قربان کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہے۔ پس یہ عید اپنے اندر نہایت اہمیت رکھتی ہے اور یہ خدان ، اور یہ خدا تعالیٰ کے سا۔ سامنے مومنوں کے اخلاص کے اظہار کے لئے تعظیم الشان مواقع میں سے ایک موقع ہے مگر آج میں اس عید کے سلسلے میں ان باتوں کے متعلق زیادہ کچھ نہیں کہنا چاہتا سوائے ایک چھوٹی سی بات کے اور جو اس سے پہلے کسی حید کے موقعہ پر یکین نے بیان نہیں کی۔ مگر آج بیان کرتا ہوں ۔ اور وہ بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو رویا میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کی قربانی دے رہے ہیں۔ تو آپ نے اپنے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام سے اس کا ذکر کیا کہ رویا میں میں نے دیکھا ہے کہ میں تمھیں قربان کر رہا حضرت اسمعیل علیہ السلام نے اپنے با نے اپنے باپ سے یہ سنکر اس پر آمادگی کا اظہار کیا اور کہا آپ اسے پورا لیجئے۔ مجھے اس میں ہر گنہ عذر نہیں ہو سکتا اور میں بخوشی اس کے لئے تیار ہوں اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام چھری لے کر اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے اپنے اپنے بیٹے کو زمین پر گرایا اور جب چھری چلانے لگے تو ذبح کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالے نے فرمایا بس بس ! أَيَا بْرَاهِيمُ قَدْ صَدَّقْتَ الرو یا ۔ اسے ابراہیم (علیہ السلام، تو نے اپنی خواب پوری کر دی ۔ اب اس قربانی کی ضرورت نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَفَدَيْنَاهُ ہوں حضر بالا اعلان کے مطابق عید الا تضمیہ کی نماز عید گاہ میں پڑھی جاتی تھی والفضل ۳ نومبر ۱۹ صدا ، مگر الفضل نومبر سے الٹ صا پر لکھا ہے کہ حضور نے نماز عید باغ حضرت ام المؤمنین میں پڑھائی (مرتب)