خطبات محمود (جلد 2) — Page 282
۲۸۲ ۳۴ قادیان ۱۸ نومبر ۱۹۴۵ء - عید الاضحی کی تقریب ۱۶ نومبر کو منائی گئی ۔ حضرت امیر المومنین خليفة المسيح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طبیعت کئی روز قبل سے علیل خیلی آرہی تھی۔ حرارت کے علاوہ در دنقرس کی شدید تکلیف تھی۔ مگر اس حالت میں ایک طرف تو ہر خور دو کلاں کی یہ خواہش تھی کہ حضور کی اس مبارک تقریب پر زیارت کرے اور حضور کے ارشادات سے مستفیض ہوا۔ دوسری طرف ڈاکٹر صاحبان کی یہ رائے تھی کہ حضور کے عید گاہ تک سواری پر تشریف لے جانے سے بھی تکلیف میں کم از کم ۲۵ فیصدی اضافہ ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ مگر باوجود اس کے حضور نے اپنی تکلیف کے مقابلہ میں خدام کی دلجوئی کو مقدم کرتے ہوئے عید گاہ میں تشریعیت لے جانے کا ارادہ فرمایا اور کہلا بھیجا کہ نماز مفتی محمد صادق صاحب پڑھا دیں اور عید کا خطبہ بھی وہی پڑھیں گے۔ اس کے بعد میں کچھ کلمات کہوں گا ۔ لیکن حضور کے تشریف لے جانے کی تیاری ہی کی جا رہی تھی کہ مطلع پر جو پہلے معمولی سا ابر آلود تھا اور بارش کے کوئی آثار نہ تھے ۔ تھوڑی ہی دیر میں بادل گھر آئے۔ اور بارش ہونے لگی ۔ اس پر اعلان کرنا پڑا کہ نماز عید گاہ کی بجائے مسجد اقصے میں ہو گی۔ چنانچہ بہت سے لوگ مسجد میں پہنچ گئے جہاں حضرت امیر المؤمنین خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالے کرسی پر بیٹھیکر تشریف لائے ہوئے تھے ۔ حضور کے ارشاد کے مطابق نماز حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے پڑھائی اور خطبہ بھی مختصر طور پر پڑھا ۔۔ اس کے بعد حضور نے آرام کرسی پر بیٹھیکر درود شریف کے کلمات کی تشریح میں نہایت ہی لطیف تقریر فرمائی ۔ اور جماعت کو نہایت ہی مؤثر الفاظ میں تبلیغ احمدیت کی طرف توجہ دلائی اور پھر دعا کرنے کے بعد گھر تشریف لے گئے ۔ الفضل وار نومبر ۱۹۳۵ء مت)