خطبات محمود (جلد 2) — Page 274
پس ہم اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے آج سے تیرہ سو سال پہلے مسلمانوں کو کلیف کی زندگی سے بچا کر انہیں کوثر عطا کیا۔اور ہم اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہیں کہ تیرہ سو سال کے بعد اس نے آج پھر ہم کو چنا اور پھر وہی نظارہ اپنی حالات میں سے گزار کر ہم کو دکھایا اور ہمیں خمر صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا کا مصداق بنا کر وہی ایمان افروز نظارہ دیکھا دیا۔پس آؤ ہم دعا کریں کہ اللہ تعالے ہمیں واقعہ میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرزند ینے کی توفیق سمجھتے اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشمنوں کو اور بھی ابتر کرے۔اللهم آمین۔و الفضل د جنوری ۱۹۳۲) ب : تاریخ ابن خلدون کے تاریخ الخمیس ۳۳۴ ، تاریخ طبری ما دار المعارف مصر ہے۔سیرت الامام این میشام کے مندرجہ ذیل صفحات کے مطالعہ سے ہجرت تک مکہ کے مسلمانوں کی تعداد معلوم کی جاسکتی ہے۔۸۸ ۱۱۰ تا ۱۴ - ۱۹۳ تا ۱۶۰ ۱۹۰ تا ۲۰ سے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صاحبزادہ قاسم کی وفات پر عاص بن وائل سمی ر والد حضرت عمرو بن عاص نے کہا تھا کہ نعوذ باللہ ان محمدا استر لا يَعِيشُ لَهُ ولد ذكر یعنی آپ کی کوئی نرینہ اولاد زندہ نہ رہے گی ر تاریخ کامل ابن اثیر ہو - سيرة ابن هشام مترجمه میشیخ محمد اسمعیل پانی پیتی (۱۳) ہے۔اسد الغابه في معرفة الصحابه ہے۔سیرت حلبیہ جز اول مهر ۳۲ - صحیح بخاری باب بیان الكعبة باب ما لقى النبي صلى الله عليه وسلم من المشركين بمكة - زرقانی شرح مواہب لدنیہ ۲۹۱۔حضرت حکمیہ کی طرف اشارہ ہے۔جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے۔اور ساتہ میں جنگ پر نوک میں لڑتے ہوئے شہادت پائی۔شہ۔اس سے مراد حضرت خالد بن ولید ہیں۔جن کی کنیت ابو سلیمان اور لقب سیف اللہ تھا۔سنہ اور شندہ کے درمیان مشرف بہ اسلام ہوئے اور زندگی کا بیشتر حصہ میدان جہاد میں داد شجاعت دیتے ہوئے گزار دیا۔ان کے اسی ذوق جہاد اور شجا مانہ کارناموں کی وجہ سے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے ان کو سیف اللہ کا لقب مرحمت فرمایا۔تقریباً سوا سو لڑائیوں میں تلوار کے جوہر دکھائے ہوئے