خطبات محمود (جلد 2) — Page 273
۲۷۳ نِعْمَى وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلَام دنياء آج یہ عید بھی اسی رنگ کی عید ہے یہ وہ جلسہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کو اکٹھا کرنے کے لئے قائم کیا اور یہ طلبہ ان ایام میں آیا ہے جبکہ فصلِ لِرَبكَ دا نحر کا نظارہ نظر آرہا ہے۔چنانچہ کل حج تھا اور آج ہم سب عید منارہے ہیں پس آج خدا کا یہ کلام پھر پورا ہو رہا ہے کہ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام جوا کیلے تھے انہیں خدا تعالے نے اتنی کثیر جماعت دی ہے کہ آج آلا نشر الصوت کے بغیر ان تک آواز بھی نہیں پہنچ سکتی۔پس حل کے حکم کی تعمیل تو ہم کو ہی چکے ہیں اب ہم قربانیاں کریں گے اس خوشی میں کہ اللہ تعالے نے ہمیں کو شروط کیا یعنی اللہ تعالے نے ہمیں ظاہری کثرت بھی دی جس طرح اس نے ہمیں روحانی انعامات کی کثرت دی ہے اور ہم خدا تعالئے کا شکر ادا کریں گے۔کہ اس نے ایک بار پھر دنیا پر ثبت کر دیا کہ مصیلی شد علیہ و آلہ وسلم ہی صاحب اولاد ہیں اور آپ کے دشمن ہی ابتر ہیں۔دیکھو آج ہم یہاں کتنی کثرت سے موجود نہیں۔اترسوں میں نے ۲۳ ہزارہ آدمیوں کا اندازہ بتایا تھا مگر بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ یہ اندازہ بالکل غلط ہے کیونکہ اس وقت عورتوں کی مردم شماری اندازہ سے بہت زیاد نکلی گویا قریب میں چالیس ہزار آدمی اس وقت جلسہ میں شامل تھے۔اور آج بھی قریباً اتنے ہی ہیں اگر کچھ فرق ہے تو بہت معمولی ہے پس اس وقت تیس چالیس ہزار کے قریب مرد د عورت بیٹے ہیں۔اتنے کثیر مجمع کے مقابلہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روشن کتنے تھے محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشن صرف بیسیوں تھے۔اور آپ اکیلے تھے مگر آج خدا تعالے کے فضل سے ہم میں سے ہر ایک فخر کے طور پر نہیں، تکبر کے طور پر نہیں، ریا کے طور پر نہیں بلکہ امر واقعہ کے اظہار کے طور پر یہ کہنے کے لئے تیار ہے کہ میں محد صلے اللہ علیہ وسلم کا بیٹا ہوں۔کیا ہے کوئی اس میں چالیں ہزار میں سے جو یہ کہہ سکے کہ میں ابو جہل کا بیٹا ہوں یا عتبہ یا شیبہ کا بیٹا ہوں یقینا ایک بھی ایسا شخص نہیں ہے۔پھر عید کا یہ اجتماع صرف اسی مقام پر نہیں بلکہ دنیا کے ہر کونہ میں اس وقت لوگ جمع ہیں۔ہر ملک میں لوگ جمع ہیں اور ہر علاقہ میں لوگ جمع ہیں۔ان لاکھوں لاکھ لوگوں میں سے ہر شخص اس تمنا کے ساتھ اس اجتماع میں شریک ہوتا ہے کہ کاش میرانڈین سچا ہو کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیٹا ہوں۔مگر ابو جہل کی اولاد میں سے آج اگر کوئی ہے بھی تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ میں ابو جہل کی اولاد میں سے ہوں۔بلکہ وہ بھی یہی کہے گا کہ میں محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے ہوں۔