خطبات محمود (جلد 2) — Page 272
ذریعہ سے اسلامہ دوبارہ دنیا پر غالب آئے گا ۔ وہ تمام مذاہب کے مقابلہ میں تمام مذاہب کے مقابلہ میں کھڑا ہو گا اور اعلان کرے گا کہ میں زندہ نمونہ ہوں اس بات کا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زندہ نبی ہیں مگر تمہا سے مذاہب زندہ نہیں ہیں اگر تم سمجھتے ہو کہ تم زندہ مذہب کے پیرو ہو تو تم میرے سامنے وہ سامنے وہ زندہ شخص پیش کر و جس پر خدا تعالے کا تازہ کلام اترتا ہو ۔ مگر ساری قومیں ابتر ہو کر رہ جائیں گی اور وہ سلامہ کے پہلوان کے مقابلہ میں اپنا کوئی پہلوان پیش نہیں کر سکیں گی چنانچہ عملی لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا تعالے نے ایسا ہی بیٹا دیا اور اس نے اعلان کیا که آج محمدی چشمہ ہی جاری ہے کہ باقی تمام میچے سوکھ گئے ہیں اور اس بات کا ثبوت میری ذات ہے میں اسی چشمہ کا پانی پی کر زندہ ہوا ہوں اور اسی چشمہ کے پانی سے تمام دنیا کو زندہ کرنے والا ہوں غرض دوبارہ دنیا نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتراض کیا۔ کہ وہ ابتر ہیں اور دوبارہ اس نے کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روحانی نسل دنیا سے مٹ گئی ہے۔ تب پھر خدا تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک روحانی بیٹا دیا جس نے دنیا کو چپ لینچ دیا ۔ کہ یکس محمد صلی اللہ علیه و آله وسلم کا روحانی مہیا ہوں تم بھی اپنے نبیوں کے روحانی بیٹے میرے مقابلہ میں پیش کر دیتے مگر آج پچاس سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے۔ نہ ہندو کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں نہ نیسائی کوئی روحانی بیا پیش کر سکتے ہیں نہ یہودی کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکتے ہیں نہ بڑھ کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکتے ہیں ، نہ کنفیوشس مذہب کے پیرو کوئی روحانی بیٹا پیش کر سکے ہیں اور نہ ہی یورپ کا فلسفہ کوئی بیٹا پیش کر سکا ہے ۔ پچاس سال سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کا چیلنج موجود ہے کہ اگر تم میں کوئی نور ہے ۔ اگر تمہارے پاس سچائی ہے ، اگر تمہارے اندر صداقت ہے تو تم میرے مقابلہ میں ایسا کوئی روحانی بیا پیش کر وہ جس نے تمہار سے ندی پر چل کر خدا تعالے کے انعامات کو حاصل کیا ہو مگر پچاس سال ہو گئے ، کوئی مذہب اپنا روحانی بیٹا پیش نہیں کر سکا ۔ و یہ عید بھی اسی کوثر کے وعدہ کو پورا کر رہی ہے۔ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شرع میں بہت کم لوگوں نے مانا اور قبول کیا ، ایسا ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة سلام کو ابتداء میں لوگوں نے نہیں مانا۔ آپ ایک فرد واحد کی حیثیت میں تھے جب آپ نے دنیا کو مقابلہ کے لئے بلایا ۔ مگر جس طرح آج سے تیرہ سو سال پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عید منائی تھی۔ ں جو حج کے بعد آئی اور اس میں آپ۔ میں آپ نے یہ اعلان کر دیا کہ خدا نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اتھا وہ پورا ہو گیا ہو گیا ہے ۔ اسلام قائم ہو گیا ہے اور دین اپنے کمال کو پہنچ گیا ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اليَوْمَ المَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ -