خطبات محمود (جلد 2) — Page 263
۲۶۲ آج بعض دوستوں کی طرف سے تحریک کی گئی تھی کہ اعلان کر دیا جائے کہ سب لوگ خطبہ کے لئے بیٹھے رہیں کوئی خطبہ ختم ہونے سے پہلے نہ جائے ۔ مگر میں نے اس سے روک دیا کیونکہ قربانی کے لئے یا اور اشد ضرورتوں کے لئے چلے جانا جائز ہے تاہے مگر میں نے دیکھا ہے کہ قریب ارب لوگ آپ ہی آپ بیٹھے رہے ہیں ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ لاؤڈ سپیکر کی وجہ سے آواز ہر جگہ آسانی سے پہنچ رہی ہے ۔ یا شاید اللہ تعالے نے ہی ان کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ سب کے سب بیٹھ کر خطبہ سنیں ۔ شه اسی طرح مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھے لکھا ہے کہ جو روزہ اس عید کے موقع پر رکھا جاتا ہے وہ سنت نہیں ، اس کا اعلان کر دیا جائے۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق ثابت ہے کہ آپ صحت کی حالت میں قربانی کر کے کھاتے تھے لیے تاہم یہ کوئی ایسا روزہ نہیں کہ کوئی نہ رکھتے تو گنہگار ہو جائے ۔ یہ کوئی فرض نہیں بلکہ نفلی روزہ ہے اور ستحب ہے۔ جو رکھ سکتا ہو رکھے مگر جو بیمار، بوڑھا ، یا دوسرا بھی نہ رکھ سکے وہ مکلف نہیں اور نہ رکھنے سے گنہگار نہیں ہوگا ۔ مگر یہ بالکل بے حقیقت بھی نہیں جیسا کہ مولوی بقا پوری ہو نے لکھا ہے میں نے صحت کی حالت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے۔ پھر مسلمانوں میں یہ کثرت سے رائج ہے اور یہ یونہی نہیں بنا لیا گیا بلکہ مستحب نقل ہے جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم کا تعامل رہا اور حسین پر عمل کرنے والا ثواب پاتا ہے مگر جو نہ کرتے اسے گناہ نہیں و کو اس کے بعد میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس عید کو ہمارے لئے حقیقی عید بنائے اور اسے اسلامی ترقیات کا موجب کرے۔ ہم میں باہمی محبت اور الفت پیدا کرے اور مخالفتوں ، بغض و عناد اور عداوتوں کو دور کر دے۔ اور سب کے دلوں میں حقیقی ہمدردی اور محبت پیار پیدا کرے ہماری سمستیوں اور کوتاہیوں کو دور کر کے محنت کی عادت ڈال دے تاہم دنیا میں کار آمد اور مفید وجود بن سکیں لکھتے ذلیل اور ناکارہ نہ ہوں۔ آئین۔ اور و الفضل ، ارجنوری سال ۱۹۳ ) ( له البقرة ١٢٦٤٢ - الحج ته - الصفت ۳۷ : ۱۰۳-۱۰۴ سور الصفت - ٣٠ : ١٠٦