خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 224

۲۲۴ یہ کہتے ہوئے مارنی شروع کر دی کہ دیکھو تو اس کے دانت کیسے چیکیلے ہیں ہے یہ ایک ظاہری حقارت کی چیز تھی۔امام حسین کو اس سے کیا نقصان ہو سکتا تھا مگر اس کی اس حرکت پر اسی وقت اس کے دربات میں ایسے لوگ کھڑے ہو گئے جنہوں نے یزید کے اس فعل کو نہایت برا محسوس کیا۔چنانچہ ایک شخص نے اسی وقت یزید کی سوٹی پر ہاتھ مارا اور کہا اسے پیچھے ہٹاؤ۔میں نے ان دانتوں پر محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بوسہ دیتے دیکھا ہے اور باوجود اس کے کہ وہ بادشاہ تھا اور ایسا مغرور بادشاہ تھا اسے یہ جرات نہیں ہوئی کہ اس کے مقابلہ میں کوئی لفظ کہہ سکے اس نے اپنی نظر نیچے کرلی اور سوئی کو پرے ہٹا لیا ہے زین العابدین اس وقت بچے تھے اور ان کی تکلیف بھی لوگوں پر اثر ڈالتی تھی۔مگر یزید نے اپنا رعب جمانے کے لئے چاہا کہ ان کو بھی لوگوں کے سامنے ذلیل کرنے۔چنانچہ کسی نے اُسے یہ تجویز بتائی کہ اس بچے سے تقریر کراؤ جب یہ تقریر نہیں کر سکے گا تو لوگ ہنسیں گے اور یہ ذلیل ہوگا۔چنانچہ یزید نے پہلے اپنے خاندان میں سے ایک شخص کو کھڑا کیا اور کہا کہ تم تقریر کرو۔وہ کھڑا ہوا اور اس نے یزید کے خاندان کی تعریف کرنی شروع کردی که به خاندان کسی عزت و عظمت کا مالک ہے۔اس کے بعد زین العابدین کو کھڑا کیا گیا وہ اس وقت بارہ تیرہ سال عمر کے بچے تھے ان کی تقریرہ بالکل بچگانہ ہے اور اسے پڑھ کر خیال آتا ہے کہ ایک بچہ ہے جو صرف دخونی بیان کر رہا ہے انہوں نے کہا ئیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہوتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہ تھے جنہوں نے مکہ فتح کیا جن کے احسانات تمام دنیا پر ہیں اور جن کی غلامی پر ہر شخص کو فخر ہے یہ وہ وقت تھا کہ ادھر لوگوں نے ان مصیبتوں کو دیکھا۔جو حضرت امام حسین اور ان کے خاندان پر آئیں اور ادھر اس بچے کے مونہ نے بریشنا کہ میں رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہوتا ہوں نتیجہ یہ ہوا کہ یکدم لوگوں میں جوش پیدا ہو گیا۔اور یزید کو اس کے مشیروں نے کہا۔کہ اس مباحثہ کو بند کرو اور نہ تمہاری حکومت خطرہ میں پڑ جائے گی اور لوگ بغاوت کر دیں گے سیتے یہ ظاہری مصیبتیں تھیں جنہوں نے لوگوں کے دلوں پر اثر کیا۔بلکہ اوروں کا کیا ذکر ہے یزید کے اپنے بیٹے پر اس کا اثر ہوا۔اور وہ اپنے باپ کا سخت مخالف ہو گیا۔لوگ یزید کو گالیا دیتے اور اسے برا بھلا کہتے ہیں۔مگر یہ نہیں جانتے کہ اسی کے خاندان میں دو قیمتی جو ہر پوشید ہیں۔جن میں سے ایک جو ہر حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں اور دوسرا جو ہر یزید کا بیٹا ہے۔جس کا نام بھی جہاں تک مجھے یاد ہے اپنے دادا کے نام پر معاویہ ہی تھا۔اس نے ان مظالم کو دکھیا اور اندر ہی اندر ان سے متاثر ہوتا چلا گیا۔مگر چونکہ وہ اپنے باپ کے خلاف بول نہیں سکتا تھا اس لئے خاموش رہا مگر آخر وہ دن آیا کہ اس کا باپ مرگیا۔باپ نے اپنی زندگی میں ہی اس کے نیز اس سے مراد اولاد ہے ویسے اصل رشتہ پڑ نہ ایسا ہونے کا تھا۔